جو شخص نیکی لے کر آئے گا تو اس کے لیے اس جیسی دس نیکیاں ہوں گی اور جو برائی لے کر آئے گا سو اسے جزا نہیں دی جائے گی، مگر اسی کی مثل اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
En
اور جو کوئی (خدا کے حضور) نیکی لے کر آئے گا اس کو ویسی دس نیکیاں ملیں گی اور جو برائی لائے گا اسے سزا ویسے ہی ملے گی اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے جزا کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿مَنْجَآءَبِالْحَسَنَةِ ﴾”جو کوئی نیکی لے کر آئے گا۔“ یعنی جو کوئی حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق قولی، فعلی، ظاہری اور باطنی نیکی لے کر اللہ تعالیٰ کے پاس حاضر ہوتا ہے ﴿ فَلَهٗعَشْ٘رُاَمْثَالِهَا ﴾”تو اس کے لیے اس کا دس گنا ہے“ نیکیوں کو کئی گنا کرنے کے ضمن میں یہ کم ترین جزا ہے ﴿ وَمَنْجَآءَبِالسَّیِّئَةِفَلَایُجْزٰۤىاِلَّامِثْلَهَا ﴾”اور جو کوئی لاتا ہے ایک برائی، سو سزا پائے گا اسی کے برابر“ یہ اللہ تعالیٰ کا کامل عدل و احسان ہے۔ اور وہ ذرہ بھر ظلم نہیں کرتا۔ بنابریں فرمایا ﴿وَهُمْلَایُظْلَمُوْنَ﴾”ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر صفة الجزاء فقال: {من جاء بالحسنة}: القوليَّة والفعليَّة، الظاهرة والباطنة، المتعلقة بحقِّ الله أو حقِّ خلقه، {فله عشرُ أمثالها}: هذا أقل ما يكون من التضعيف، {ومن جاء بالسيئةِ فلا يُجْزى إلَّا مثلَها}: وهذا من تمام عدله تعالى وإحسانه، وأنه لا يظلم مثقال ذرَّة، ولهذا قال: {وهم لا يُظْلَمون}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔