تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 159

اِنَّ الَّذِیۡنَ فَرَّقُوۡا دِیۡنَہُمۡ وَ کَانُوۡا شِیَعًا لَّسۡتَ مِنۡہُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ ؕ اِنَّمَاۤ اَمۡرُہُمۡ اِلَی اللّٰہِ ثُمَّ یُنَبِّئُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۱۵۹﴾
بے شک وہ لوگ جنھوں نے اپنے دین کو جدا جدا کر لیا اور کئی گروہ بن گئے، تو کسی چیز میں بھی ان سے نہیں، ان کا معاملہ تو اللہ ہی کے حوالے ہے، پھر وہ انھیں بتائے گا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔ En
جن لوگوں نے اپنے دین میں (بہت سے) رستے نکالے اور کئی کئی فرقے ہو گئے ان سے تم کو کچھ کام نہیں ان کا کام خدا کے حوالے پھر جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں وہ ان کو (سب) بتائے گا
En
بےشک جن لوگوں نے اپنے دین کو جدا جدا کردیا اور گروه گروه بن گئے، آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں بس ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے ہے۔ پھر ان کو ان کا کیا ہوا جتلادیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو وعید سناتا ہے جنھوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا اور دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے فرقوں میں بٹ گئے اور ہر ایک نے اپنا ایک نام رکھ لیا جو انسان کے لیے اس کے دین میں کوئی کام نہیں آتا۔ جیسے یہودیت، نصرانیت اور مجوسیت وغیرہ۔ یا اس سے انسان کے ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی، جیسے وہ شریعت میں سے کسی ایک چیز کو اخذ کر کے اس کو دین بنا لے اور اس جیسی یا اس سے کسی افضل چیز کو چھوڑ دے جیسا کہ اہل بدعت اور ان گمراہ فرقوں کا حال ہے جنھوں نے امت سے الگ راستہ اختیار کر لیا ہے۔
آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ دین اجتماعیت اور اکٹھے رہنے کا حکم دیتا ہے اور تفرقہ بازی اور اہل دین میں اور تمام اصولی و فروعی مسائل میں اختلاف پیدا کرنے سے روکتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا آپ ان لوگوں سے براء ت کا اظہار کریں جنھوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا۔ ﴿لَّسْتَ مِنْهُمْ فِیْ شَیْءٍ ان سے آپ کو کچھ کام نہیں۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ہیں نہ وہ آپ میں سے۔ کیونکہ انھوں نے آپ کی مخالفت کی اور آپ سے عناد رکھا۔ ﴿اِنَّمَاۤ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ یعنی ان کو اللہ کی طرف لوٹایا جائے گا، وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا ﴿ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ پھر وہ (اللہ) ان کو ان کے افعال سے آگاہ کرے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يتوعَّد تعالى الذين فرَّقوا دينهم؛ أي: شتَّتوه وتفرَّقوا فيه، وكلٌّ أخذ لنفسه نصيباً من الأسماء التي لا تفيد الإنسان في دينه شيئاً؛ كاليهودية والنصرانية والمجوسية، أو لا يكمل بها إيمانه؛ بأن يأخذ من الشريعة شيئاً ويجعله دينه ويدع مثله أو ما هو أولى منه؛ كما هو حال أهل الفرقة من أهل البدع والضلال والمفرقين للأمة. ودلَّت الآية الكريمة أن الدين يأمر بالاجتماع والائتلاف وينهى عن التفرق والاختلاف في أهل الدين وفي سائر مسائله الأصوليَّة والفروعيَّة، وأمره أن يتبرأ ممَّن فرَّقوا دينهم، فقال: {لستَ منهم في شيءٍ}؛ أي: لست منهم وليسوا منك؛ لأنهم خالفوك وعاندوك. {إنَّما أمرُهم إلى الله}: يردُّون إليه فيجازيهم بأعمالهم، {ثم ينبِّئهم بما كانوا يفعلونَ}.