تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 161

قُلۡ اِنَّنِیۡ ہَدٰىنِیۡ رَبِّیۡۤ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ۬ۚ دِیۡنًا قِیَمًا مِّلَّۃَ اِبۡرٰہِیۡمَ حَنِیۡفًا ۚ وَ مَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۱۶۱﴾
کہہ دے بے شک مجھے تو میرے رب نے سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کر دی ہے، جو مضبوط دین ہے، ابراہیم کی ملت، جو ایک ہی طرف کا تھا اور مشرکوں سے نہ تھا ۔ En
کہہ دو کہ مجھے میرے پروردگار نے سیدھا رستہ دکھا دیا ہے (یعنی دین صحیح) مذہب ابراہیم کا جو ایک (خدا) ہی کی طرف کے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے
En
آپ کہہ دیجئے کہ مجھ کو میرے رب نے ایک سیدھا راستہ بتادیا ہے کہ وه ایک دین مستحکم ہے جو طریقہ ہے ابراہیم (علیہ السلام) کا جو اللہ کی طرف یکسو تھے۔ اور وه شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ وہ جس راہ ہدایت اور صراط مستقیم پر گامزن ہیں اس کے بارے میں اعلان کر دیں یعنی معتدل دین کا جو عقائد نافعہ، اعمال صالحہ، ہر اچھی بات کے حکم اور ہر بری بات سے ممانعت کو متضمن ہے۔ یہ وہ دین ہے جس پر تمام انبیا و مرسلین عمل پیرا رہے، جو خاص طور پر امام الحنفاء، بعد میں مبعوث ہونے والے تمام انبیا و مرسلین کے باپ اور اللہ رحمن کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کا دین تھا۔ یہی وہ دین حنیف ہے جو تمام اہل انحراف، مثلاً: یہود و نصاریٰ اور مشرکین کے ادیان باطلہ سے روگردانی کو متضمن ہے۔یہ عمومی ذکر ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يأمر تعالى نبيَّه - صلى الله عليه وسلم - أنْ يقول ويعلن بما هو عليه من الهداية إلى الصراط المستقيم، الدِّين المعتدل، المتضمِّن للعقائد النافعة والأعمال الصالحة والأمر بكل حسن والنهي عن كل قبيح، الذي عليه الأنبياء والمرسلون، خصوصاً إمام الحنفاء ووالد من بُعِثَ من بعد موته من الأنبياء خليل الرحمن إبراهيم عليه الصلاة والسلام، وهو الدين الحنيف، المائل عن كل دين غير مستقيم من أديان أهل الانحراف كاليهود والنصارى والمشركين. وهذا عمومٌ.