تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 16

مَنۡ یُّصۡرَفۡ عَنۡہُ یَوۡمَئِذٍ فَقَدۡ رَحِمَہٗ ؕ وَ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۶﴾
جس شخص سے اس دن وہ ہٹا لیا جائے گا تو یقینا اس نے اس پر رحم کر دیا اور یہی کھلی کامیابی ہے۔ En
جس شخص سے اس روز عذاب ٹال دیا گیا اس پر خدا نے (بڑی) مہربانی فرمائی اور یہ کھلی کامیابی ہے
En
جس شخص سے اس روز وه عذاب ہٹا دیا جائے تو اس پر اللہ نے بڑا رحم کیا اور یہ صریح کامیابی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اور یوم عظیم سے مراد وہ دن ہے جس کے عذاب سے خوف کھایا جاتا ہے اور اس کی سزا سے بچا جاتا ہے کیونکہ جو اس روز عذاب سے بچا لیا گیا وہی درحقیقت اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سائے میں ہو گا اور جس نے اس عذاب سے نجات پا لی وہی درحقیقت کامیاب ہے جیسے جس کو اس دن کے عذاب سے نجات نہ ملی تو وہ بدبخت ہلاک ہونے والا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وذلك اليوم هو اليوم الذي يُخاف عذابُه ويُحذر عقابُه؛ لأنه من صُرِفَ عنه العذابُ يومئذٍ فهو المرحومُ، ومن نجا فيه فهو الفائز حَقًّا؛ كما أنَّ من لم ينجُ منه؛ فهو الهالك الشقيُّ.