ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانعام (6) — آیت 16

مَنۡ یُّصۡرَفۡ عَنۡہُ یَوۡمَئِذٍ فَقَدۡ رَحِمَہٗ ؕ وَ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۶﴾
جس شخص سے اس دن وہ ہٹا لیا جائے گا تو یقینا اس نے اس پر رحم کر دیا اور یہی کھلی کامیابی ہے۔ En
جس شخص سے اس روز عذاب ٹال دیا گیا اس پر خدا نے (بڑی) مہربانی فرمائی اور یہ کھلی کامیابی ہے
En
جس شخص سے اس روز وه عذاب ہٹا دیا جائے تو اس پر اللہ نے بڑا رحم کیا اور یہ صریح کامیابی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 16) {مَنْ يُّصْرَفْ عَنْهُ …:} یعنی بلند مقام حاصل کرنا تو بہت بڑی بات ہے، اگر کسی سے آخرت کا عذاب ہی ٹل جائے تو اپنی جگہ یہی بہت واضح کامیابی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

16۔ 1 جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا ' جو آگ سے دور اور جنت میں داخل کردیا گیا، وہ کامیاب ہوگیا اس لئے کامیابی، خسارے سے بچ جانے اور نفع حاصل کرلینے کا نام ہے۔ جنت سے بڑھ کر نفع کیا ہوگا؟

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

16۔ اس دن جو شخص عذاب سے بچ گیا [17] اس پر اللہ نے بڑا ہی رحم و کرم کیا اور یہ نمایاں کامیابی ہے“

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اور یوم عظیم سے مراد وہ دن ہے جس کے عذاب سے خوف کھایا جاتا ہے اور اس کی سزا سے بچا جاتا ہے کیونکہ جو اس روز عذاب سے بچا لیا گیا وہی درحقیقت اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سائے میں ہو گا اور جس نے اس عذاب سے نجات پا لی وہی درحقیقت کامیاب ہے جیسے جس کو اس دن کے عذاب سے نجات نہ ملی تو وہ بدبخت ہلاک ہونے والا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وذلك اليوم هو اليوم الذي يُخاف عذابُه ويُحذر عقابُه؛ لأنه من صُرِفَ عنه العذابُ يومئذٍ فهو المرحومُ، ومن نجا فيه فهو الفائز حَقًّا؛ كما أنَّ من لم ينجُ منه؛ فهو الهالك الشقيُّ.