اور اگر اللہ تجھے کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ تجھے کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
En
اور اگر خدا تم کو کوئی سختی پہنچائے تو اس کے سوا اس کو کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر نعمت (وراحت) عطا کرے تو (کوئی اس کو روکنے والا نہیں) وہ ہر چیز پر قادر ہے
اور اگر تجھ کو اللہ تعالیٰ کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کا دور کرنے واﻻ سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں۔ اور اگر تجھ کو اللہ تعالیٰ کوئی نفع پہنچائے تو وه ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے واﻻ ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی توحید کے دلائل ہیں کہ صرف وہی ایک ہستی ہے جو تکلیفوں کو دور کرتی ہے اور صرف وہی ہے جو بھلائی اور خوشحالی عطا کرتی ہے۔ ﴿ وَاِنْیَّمْسَسْكَاللّٰهُبِضُرٍّ ﴾”اور اگر اللہ تم کو کوئی سختی پہنچائے۔“ یعنی اگر اللہ تعالیٰ تجھے کسی فقر، مرض، عسرت یا غم و ہموم وغیرہ میں مبتلا کر دے ﴿فَلَاكَاشِفَلَهٗۤاِلَّاهُوَ١ؕوَاِنْیَّمْسَسْكَبِخَیْرٍفَهُوَعَلٰىكُ٘لِّشَیْءٍقَدِیْرٌ ﴾”تو اسے کو ئی دور کرنے والا نہیں، سوائے اسکے اور اگر پہنچائے وہ تجھ کو کوئی بھلائی تو وہ ہر چیز پر قادر ہے“ پس جب وہی اکیلا نفع و نقصان پہنچانے کا اختیار رکھتا ہے تو وہی اکیلا عبودیت و الوہیت کا بھی مستحق ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومن أدلة توحيده أنه تعالى المنفرد بكشف الضَّرَّاء وجلب الخير والسَّرَّاء، ولهذا قال: {وإن يَمسَسْكَ الله بضُرٍّ}: من فقرٍ أو مرضٍ أو عسرٍ أو غمٍّ أو همٍّ أو نحوه، {فلا كاشفَ له إلَّا هو وإن يَمْسَسْكَ بخيرٍ فهو على كل شيء قديرٌ}: فإذا كان وحدَه النافعَ الضارَّ؛ فهو الذي يستحقُّ أن يُفْرَدَ بالعبوديَّة والإلهيَّة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔