یا یہ کہو کہ اگر ہم پر کتاب اتاری جاتی تو ہم ان سے زیادہ ہدایت والے ہوتے۔ پس بے شک تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل اور ہدایت اور رحمت آچکی، پھر اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ کی آیات کو جھٹلائے اور ان سے کنارا کرے۔ عنقریب ہم ان لوگوں کو جو ہماری آیات سے کنارا کرتے ہیں، برے عذاب کی جزا دیں گے، اس کے بدلے جو وہ کنارا کرتے تھے۔
En
یا (یہ نہ) کہو کہ اگر ہم پر بھی کتاب نازل ہوتی تو ہم ان لوگوں کی نسبت کہیں سیدھے رستے پر ہوتے سو تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے دلیل اور ہدایت اور رحمت آ گئی ہے تو اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا کی آیتوں کی تکذیب کرے اور ان سے (لوگوں کو) پھیرے جو لوگ ہماری آیتوں سے پھیرتے ہیں اس پھیرنے کے سبب ہم ان کو برے عذاب کی سزا دیں گے
یا یوں نہ کہو کہ اگر ہم پر کوئی کتاب نازل ہوتی تو ہم ان سے بھی زیاده راه راست پر ہوتے۔ سو اب تمہارے پاس تمہارے رب کے پاس سے ایک کتاب واضح اور رہنمائی کا ذریعہ اور رحمت آچکی ہے۔ اب اس شخص سے زیاده ﻇالم کون ہوگا جو ہماری ان آیتوں کو جھوٹا بتائے اور اس سے روکے۔ ہم جلد ہی ان لوگوں کو جو کہ ہماری آیتوں سے روکتے ہیں ان کے اس روکنے کے سبب سخت سزا دیں گے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اَوْتَقُوْلُوْالَوْاَنَّـاۤ٘اُنْزِلَعَلَیْنَاالْكِتٰبُلَكُنَّاۤاَهْدٰؔىمِنْهُمْ ﴾”یا تم کہو کہ اگر اترتی ہم پر کتاب تو ہم ان سے بہتر راہ پر چلنے والے ہوتے“ یعنی یا تو تم یہ عذر پیش کرو گے کہ تمھارے پاس اصل ہدایت ہی نہیں پہنچی یا تمھارا عذر یہ ہو گا کہ یہ ہدایت کامل نہ تھی۔ پس تمھیں اپنی کتاب، اصل اور کامل ہدایت حاصل ہو گئی۔ بنا بریں فرمایا: ﴿فَقَدْجَآءَكُمْبَیِّنَةٌمِّنْرَّبِّكُمْ ﴾”پس تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے دلیل آگئی۔“ یہ اسم جنس ہے اور اس میں ہر وہ چیز داخل ہے جو حق کو بیان کرے ﴿ وَهُدًى ﴾”اور ہدایت“ گمراہی کے اندھیروں میں راہ ہدایت ہے ﴿ وَّرَحْمَةٌ ﴾”اور رحمت“ یعنی دین و دنیا میں تمھارے لیے سعادت ہے۔
پس یہ چیز تم پر واجب کرتی ہے کہ تم اس کے احکام کی تعمیل کرو اور اس کی خبروں پر ایمان لاؤ۔ اور جس کسی نے اس کی پروا نہ کی اور اس کو جھٹلایا، وہ سب سے بڑا ظالم ہے۔ بنابریں فرمایا: ﴿فَ٘مَنْاَظْلَمُمِمَّنْكَذَّبَبِاٰیٰتِاللّٰهِوَصَدَفَعَنْهَا ﴾”اب اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے اور ان سے کترائے“ یعنی اس نے روگردانی کی اور پہلو بچا کر نکل گیا ﴿ سَنَجْزِیالَّذِیْنَیَصْدِفُوْنَعَنْاٰیٰتِنَاسُوْٓءَؔالْعَذَابِ ﴾”ہم سزا دیں گے ان کو جو ہماری آیتوں سے کتراتے ہیں، برے عذاب کی“ یعنی وہ ایسا عذاب ہو گا کہ وہ اس میں مبتلا شخص کو سخت تکلیف دے گا، اس پر بہت شاق گزرے گا ﴿ بِمَاكَانُوْایَصْدِفُوْنَ ﴾”اس کترانے کے بدلے میں “ وہ خود اپنے آپ کو اور دوسروں کو ہماری آیتوں سے پھیرتے تھے، یہ ان کے اعمال بد کا بدلہ ہے ﴿ وَمَارَبُّكَبِظَلَّامٍلِّلْعَبِیْدِ ﴾ (حم السجدہ: 41؍46) ”اور آپ کا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔“
یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ قرآن کا علم، جلیل ترین، انتہائی بابرکت اور تمام علوم سے زیادہ وسیع علم ہے۔ اسی کے ذریعے سے صراط مستقیم کی طرف کامل راہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے انسان اولین و آخرین میں سے متکلمین کے قیاسات اور اندازوں اور فلسفیوں کے افکار و نظریات کا محتاج نہیں رہتا۔
عام طور پر معروف ہے کہ کتاب یہود و نصاریٰ کے سوا کسی پر نہیں اتری اور علی الاطلاق وہی اہل کتاب ہیں۔ دیگر تمام گروہ، مجوس وغیرہ اہل کتاب کے زمرے میں نہیں آتے۔ ان آیات مبارکہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نزول قرآن سے قبل جاہلی عرب، ان اہل کتاب کے علم سے بے بہرہ تھے جن کے پاس علم تھا اور ان کی کتب کے پڑھنے پڑھانے سے غافل تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{أو تقولوا لو أنَّا أنزِلَ علينا الكتابُ لَكُنَّا أهدى منهم}؛ أي: إما أن تعتذروا بعدم وصول أصل الهداية إليكم، وإما أن تعتذِروا بعدم كمالها وتمامها، فحصل لكم بكتابكم أصل الهداية وكمالها، ولهذا قال: {فقد جاءكم بينة من ربكم}: وهذا اسم جنسٍ يدخل فيه كل ما يبين الحق، {وهدىً}: من الضلالة، {ورحمةٌ}؛ أي: سعادة لكم في دينكم ودنياكم؛ فهذا يوجِبُ لكم الانقياد لأحكامه والإيمان بأخباره وأنَّ مَنْ لم يرفعْ به رأساً وكذَّب به؛ فإنه أظلم الظالمين. ولهذا قال: {فمَنْ أظلمُ ممَّن كذَّبَ بآيات الله وصَدَفَ عنها}؛ أي: أعرض ونأى بجانبه، {سنجزي الذين يصدِفونَ عن آياتنا سوءَ العذاب}؛ [أي: العذاب] الذي يَسوءُ صاحبه ويشقُّ عليه، {بما كانوا يصدِفونَ}: لأنفسهم ولغيرهم جزاءً لهم على عملهم السيئ، وما ربُّك بظلام للعبيد.
وفي هذه الآيات دليلٌ على أنَّ علم القرآن أجلُّ العلوم وأبركُها وأوسعُها، وأنه به تحصُل الهداية إلى الصراط المستقيم هدايةً تامةً لا يحتاج معها إلى تخرُّص المتكلمين ولا إلى أفكار المتفلسفين ولا لغير ذلك من علوم الأوَّلين والآخرين.
وأنَّ المعروف أنَّه لم ينزل جنسُ الكتاب إلا على الطائفتين؛ من اليهود والنصارى؛ فهم أهل الكتاب عند الإطلاق، لا يدخل فيهم سائر الطوائف؛ لا المجوس ولا غيرهم.
وفيه ما كان عليه الجاهلية قبل نزول القرآن من الجهل العظيم وعدم العلم بما عند أهل الكتاب الذين عندهم، مادةُ العلم، وغفلتُهم عن دراسة كتبهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔