تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {صَدَفَ عَنْهَا:} اس کے معنی کنارہ کرنے کے بھی ہیں اور دوسروں کو روکنے کے بھی۔ کفار خود بھی ایمان نہیں لاتے تھے اور دوسروں کو بھی روکتے تھے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۲۶، ۲۷)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے فرمان ہے آیت «وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَهُمْ نَذِيرٌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورًا» ۱؎ [35-فاطر:42]، یعنی ’ مؤکد قسمیں کھا کھا کر لاف زنی کرتے تھے کہ ہم میں اگر کوئی نبی آ جائے تو ہم ہدایت کو مان لیں ‘۔
اسی سورت کے شروع میں فرمایا ہے آیت «وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ وَإِن يُهْلِكُونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ» ۱؎ [6-الانعام:26] ’ خود اس کے مخالف اوروں کو بھی اسے ماننے سے روکتے ہیں دراصل اپنا ہی بگاڑتے ہیں ‘۔
جیسے فرمایا آیت «الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ» ۱؎ [16-النحل:88] یعنی ’ جو لوگ خود کفر کرتے ہیں اور راہ الٰہی سے روکتے ہیں انہیں ہم عذاب بڑھاتے رہیں گے ‘۔ پس یہ لوگ ہیں جو نہ مانتے تھے نہ فرماں بردار ہوتے تھے۔
جیسے فرمان ہے آیت «فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلّٰى وَلَـٰكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» ۱؎ [75-القيامة:32-31] یعنی ’ نہ تونے مانا نہ نماز پڑھی بلکہ نہ مان کر منہ پھیر لیا ‘۔ ان دونوں تفسیروں میں پہلی بہت اچھی ہے یعنی خود بھی انکار کیا اور دوسروں کا بھی انکار پر آمادہ کیا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{أو تقولوا لو أنَّا أنزِلَ علينا الكتابُ لَكُنَّا أهدى منهم}؛ أي: إما أن تعتذروا بعدم وصول أصل الهداية إليكم، وإما أن تعتذِروا بعدم كمالها وتمامها، فحصل لكم بكتابكم أصل الهداية وكمالها، ولهذا قال: {فقد جاءكم بينة من ربكم}: وهذا اسم جنسٍ يدخل فيه كل ما يبين الحق، {وهدىً}: من الضلالة، {ورحمةٌ}؛ أي: سعادة لكم في دينكم ودنياكم؛ فهذا يوجِبُ لكم الانقياد لأحكامه والإيمان بأخباره وأنَّ مَنْ لم يرفعْ به رأساً وكذَّب به؛ فإنه أظلم الظالمين. ولهذا قال: {فمَنْ أظلمُ ممَّن كذَّبَ بآيات الله وصَدَفَ عنها}؛ أي: أعرض ونأى بجانبه، {سنجزي الذين يصدِفونَ عن آياتنا سوءَ العذاب}؛ [أي: العذاب] الذي يَسوءُ صاحبه ويشقُّ عليه، {بما كانوا يصدِفونَ}: لأنفسهم ولغيرهم جزاءً لهم على عملهم السيئ، وما ربُّك بظلام للعبيد.
وفي هذه الآيات دليلٌ على أنَّ علم القرآن أجلُّ العلوم وأبركُها وأوسعُها، وأنه به تحصُل الهداية إلى الصراط المستقيم هدايةً تامةً لا يحتاج معها إلى تخرُّص المتكلمين ولا إلى أفكار المتفلسفين ولا لغير ذلك من علوم الأوَّلين والآخرين.
وأنَّ المعروف أنَّه لم ينزل جنسُ الكتاب إلا على الطائفتين؛ من اليهود والنصارى؛ فهم أهل الكتاب عند الإطلاق، لا يدخل فيهم سائر الطوائف؛ لا المجوس ولا غيرهم.
وفيه ما كان عليه الجاهلية قبل نزول القرآن من الجهل العظيم وعدم العلم بما عند أهل الكتاب الذين عندهم، مادةُ العلم، وغفلتُهم عن دراسة كتبهم.