تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اَنْتَقُوْلُوْۤااِنَّمَاۤاُنْزِلَالْكِتٰبُعَلٰىطَآىِٕفَتَیْنِمِنْقَبْلِنَا﴾”اس واسطے کہ کہیں تم کہنے لگو، کہ کتاب جو اتری تھی، سو ان ہی دو فرقوں پر جو ہم سے پہلے تھے“ یعنی قطع حجت کے لیے ہم نے تم پر یہ مبارک کتاب نازل کی ہے اور تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہم سے پہلے تو دو گروہوں پر کتاب نازل کر دی گئی، یعنی یہود و نصاریٰ پر ﴿ وَاِنْكُنَّاعَنْدِرَاسَتِهِمْلَغٰفِلِیْ٘نَ﴾”اور ہم کو تو ان کے پڑھنے پڑھانے کی خبر ہی نہ تھی“یعنی تم کہو کہ ہم پر کوئی کتاب نہیں اتاری گئی۔ یہود و نصاریٰ پر جو کتابیں نازل کی گئیں ان کے بارے میں ہمیں کوئی علم ہے نہ معرفت، اس لیے ہم نے تمھاری طرف ایک ایسی کتاب نازل کی جس سے بڑھ کر جامع، واضح اور روشن کوئی اور کتاب آسمان سے نازل نہیں کی گئی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{أن تقولوا إنَّما أنزِلَ الكتاب على طائفتين من قبلنا وإن كنَّا عن دراستِهِم لغافلينَ}؛ أي: أنزلنا إليكم هذا الكتاب المبارك قطعاً لحجَّتكم وخشيةَ أن تقولوا إنما أنزل الكتابُ على طائفتين من قبلنا؛ أي اليهود والنصارى. {وإن كنَّا عن دراستِهِم لغافلينَ}؛ أي: تقولون: لم تنزِلْ علينا كتاباً، والكتب التي أنزلتها على الطائفتين ليس لنا بها علمٌ ولا معرفةٌ، فأنزلنا إليكم كتاباً لم ينزل من السماء كتابٌ أجمع ولا أوضح ولا أبين منه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔