تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 155

وَ ہٰذَا کِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰہُ مُبٰرَکٌ فَاتَّبِعُوۡہُ وَ اتَّقُوۡا لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿۱۵۵﴾ۙ
اور یہ عظیم کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے، بڑی برکت والی، پس اس کی پیروی کرو اور بچ جاؤ، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ En
اور (اے کفر کرنے والوں) یہ کتاب بھی ہمیں نے اتاری ہے برکت والی تو اس کی پیروی کرو اور (خدا سے) ڈرو تاکہ تم پر مہربانی کی جائے
En
اور یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے بھیجا بڑی خیر وبرکت والی، سو اس کا اتباع کرو اور ڈرو تاکہ تم پر رحمت ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَهٰؔذَا اور یہ یعنی یہ قرآن عظیم اور ذکر حکیم ﴿ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ کتاب ہم نے اتاری ہے برکت والی۔ یعنی اس کتاب کے اندر خیرکثیر اور بے انتہا علم ہے جس سے تمام علوم مدد لیتے ہیں اور اس سے برکات حاصل کی جاتی ہیں۔ کوئی ایسی بھلائی نہیں جس کی طرف اس کتاب عظیم نے دعوت اور ترغیب نہ دی ہو اوراس بھلائی کی حکمتیں اور مصلحتیں بیان نہ کی ہوں جو اس پرآمادہ کرتی ہیں اور کوئی ایسی برائی نہیں جس سے اس کتاب نے روکا اور ڈرایا نہ ہو اور ان اسباب اور عواقب کا ذکرنہ کیا ہو جو اس برائی کے ارتکاب سے باز رکھتے ہوں۔ ﴿ فَاتَّبِعُوْهُ پس اس کی پیروی کرو یعنی اس کے امرونہی میں اس کی اتباع کرو اور اس پر اپنے اصول و فروع کی بنیاد رکھو ﴿ وَاتَّقُوْا اور ڈرو یعنی کسی امر میں اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرنے سے ڈرو ﴿ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو شاید تم پر رحم کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کا سب سے بڑا سبب علم و عمل کے اعتبار سے اس کتاب کی پیروی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وهذا}: القرآن العظيم والذِّكْر الحكيم، {كتابٌ أنزلْناه مبارَكٌ}؛ أي: فيه الخير الكثير والعلم الغزير، وهو الذي تستمدُّ منه سائر العلوم وتستخرجُ منه البركاتُ؛ فما من خيرٍ إلاَّ وقد دعا إليه ورغَّب فيه وذكر الحِكَمَ والمصالح التي تحثُّ عليه، وما من شرٍّ إلا وقد نهى عنه وحذَّر منه وذكر الأسباب المنفِّرة عن فعله وعواقبها الوخيمة. {فاتَّبعوه}: فيما يأمر به وينهى، وابنوا أصولَ دينِكُم وفروعه عليه. {واتَّقوا}: الله تعالى أن تخالفوا له أمراً {لعلَّكم}: إن اتَّبعتموه {تُرْحَمونَ}: فأكبر سبب لنيل رحمة الله اتِّباعُ هذا الكتاب علماً وعملاً.