تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 148

سَیَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَاۤ اَشۡرَکۡنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمۡنَا مِنۡ شَیۡءٍ ؕ کَذٰلِکَ کَذَّبَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ حَتّٰی ذَاقُوۡا بَاۡسَنَا ؕ قُلۡ ہَلۡ عِنۡدَکُمۡ مِّنۡ عِلۡمٍ فَتُخۡرِجُوۡہُ لَنَا ؕ اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا تَخۡرُصُوۡنَ ﴿۱۴۸﴾
عنقریب وہ لوگ کہیں گے جنھوں نے شریک بنائے ہیں، اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شریک بناتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کوئی چیز حرام ٹھہراتے۔ اسی طرح ان لوگوں نے جھٹلایا جو ان سے پہلے تھے، یہاں تک کہ انھوں نے ہمارا عذاب چکھ لیا۔ کہہ کیا تمھارے پاس کوئی علم ہے کہ تم اسے ہمارے لیے نکالو، تم تو گمان کے سوا کسی چیز کی پیروی نہیں کر رہے اور تم اس کے سوا کچھ نہیں کہ اٹکل دوڑاتے ہو۔ En
جو لوگ شرک کرتے ہیں وہ کہیں گے کہ اگر خدا چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا (شرک کرتے) اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے اسی طرح ان لوگوں نے تکذیب کی تھی جو ان سے پہلے تھے یہاں تک کہ ہمارے عذاب کا مزہ چکھ کر رہے کہہ دو کیا تمہارے پاس کوئی سند ہے (اگر ہے) تو اسے ہمارے سامنے نکالو تم محض خیال کے پیچھے چلتے اور اٹکل کی تیر چلاتے ہو
En
یہ مشرکین (یوں) کہیں گے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کسی چیز کو حرام کہہ سکتے۔ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے ہوچکے ہیں انہوں نے بھی تکذیب کی تھی یہاں تک کہ انہوں نے ہمارے عذاب کامزه چکھا۔ آپ کہیے کہ کیا تمہارے پاس کوئی دلیل ہے تو اس کو ہمارے روبرو ﻇاہر کرو۔ تم لوگ محض خیالی باتوں پر چلتے ہو اور تم بالکل اٹکل سے باتیں بناتے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے خبر ہے کہ مشرکین اپنے شرک اور اللہ تعالیٰ کی حلال ٹھہرائی ہوئی چیزوں کو حرام ٹھہرانے پر اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے دلیل پکڑتے ہیں اور اپنے آپ سے مذمت کو دور کرنے کے لیے، اللہ تعالیٰ کی مشیت کو جو خیر و شر ہر چیز کو شامل ہے، دلیل بناتے ہیں، چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کہا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَؔكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ (النحل: 16؍35) وہ لوگ جنھوں نے شرک کیا کہتے ہیں کہ اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو ہم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرتے۔پس یہ وہ دلیل ہے جو انبیا و رسل کو جھٹلانے والی قومیں انبیاء کی دعوت کو رد کرنے کے لیے پیش کرتی رہی ہیں مگر یہ ان کے کسی کام آئی نہ اس نے انھیں کوئی فائدہ ہی دیا اور یہی ان کی عادت رہی حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ہلاک کر کے عذاب کا مزا چکھایا۔
اگر ان کی یہ دلیل صحیح ہوتی تو ان سے عذاب کو ہٹا لیا جاتا اور اللہ تعالیٰ ان کو عذاب میں مبتلا نہ کرتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا عذاب صرف اسی پر نازل ہوتا ہے جو اس کا مستحق ہوتا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ یہ ان کی فاسد دلیل اور انتہائی گھٹیا شبہ ہے اور اس کی متعدد وجوہات ہیں۔
(۱) اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اگر ان کی دلیل صحیح ہوتی تو ان پر عذاب نازل نہ ہوتا۔
(۲) دلیل کے لیے ضروری ہے کہ اس کی بنیاد علم اور برہان ہو۔ اگر دلیل محض گمان اور اندازے پر مبنی ہو، جو حق کے مقابلے میں کوئی کام نہیں آسکتی تو یہ باطل ہے۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُ٘لْ هَلْ عِنْدَؔكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا کہہ دیجیے! اگر تمھارے پاس کوئی علم ہے تو ہمارے سامنے پیش کرو پس اگر ان کے پاس علم ہوتا حالانکہ وہ سخت جھگڑالو لوگ ہیں تو وہ اسے ضرور پیش کرتے اگر انھوں نے کوئی علمی دلیل پیش نہیں کی تو معلوم ہوا کہ وہ علم سے بے بہرہ ہیں۔
﴿اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّ٘نَّ وَاِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ تم تو نرے گمان پر چلتے ہو اور صرف تخمینے ہی کرتے ہو اور جو کوئی اپنے دلائل کی بنیاد گمان اور اندازوں پر رکھتا ہے وہ باطل پرست اور خسارے میں پڑنے والا ہے اور جب اس کی بنیاد سرکشی، دشمنی اور شروفساد پر ہو تو اس کی کیفیت کیا ہوگی؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا إخبار من الله أن المشركين سيحتجُّون على شركهم وتحريمهم ما أحل الله بالقضاء والقدر، ويجعلون مشيئة الله الشاملة لكلِّ شيءٍ من الخير والشرِّ حجةً لهم في دفع اللوم عنهم، وقد قالوا ما أخبر الله أنهم سيقولونه؛ كما قال في الآية الأخرى: {وقال الذين أشْرَكوا لو شاءَ اللهُ ما عَبَدْنا من دونِهِ من شيءٍ ... } الآية فأخبر تعالى أنَّ هذه الحجة لم تزل الأممُ المكذِّبة تدفعُ بها عنهم دعوةَ الرسل ويحتجُّون بها، فلم تُجْدِ فيهم شيئاً ولم تنفعْهم، فلم يزلْ هذا دأبَهم حتى أهلكهم الله وأذاقهم بأسه؛ فلو كانت حجةً صحيحةً؛ لدفعتْ عنهم العقابَ، ولَمَا أحلَّ الله بهم العذاب؛ لأنَّه لا يحلُّ بأسه إلا بمن استحقه فعلم أنها حجة فاسدة وشبهة كاسدة من عدة أوجه:

منها: ما ذكر الله من أنها لو كانت صحيحةً لم تحلَّ بهم العقوبة.

ومنها: أن الحجة لا بدَّ أن تكون حجةً مستندةً إلى العلم والبرهان، فأما إذا كانت مستندةً إلى مجرَّد الظنِّ والخرص الذي لا يغني من الحقِّ شيئاً؛ فإنها باطلة، ولهذا قال: {قل هل عندَكم من علم فتخرِجوه لنا}؛ فلو كان لهم علمٌ ـ وهم خصومٌ ألدَّاء ـ لأخرجوه، فلما لم يخرِجوه؛ عُلِمَ أنه لا علم عندهم. {إن تتَّبعون إلَّا الظَّنَّ وإنْ أنتم إلَّا تَخْرُصُونَ}: ومن بنى حُججه على الخرص والظنِّ؛ فهو مبطل خاسر؛ فكيف إذا بناها على البغي والعناد والشرِّ والفساد.