تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ:} یعنی در حقیقت یہ بات کہنا اور اﷲ کی تقدیر اور مشیت کو اس کے خوش ہونے کی دلیل قرار دینا اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی تکذیب (جھٹلانا) ہے۔ ان سے پہلے لوگ بھی اسی بہانے کو بنیاد بنا کر رسولوں کو جھٹلاتے آئے ہیں۔
➌ { حَتّٰى ذَاقُوْا بَاْسَنَا:} یعنی ان کا یہ عذر قطعی غلط اور بے بنیاد ہے۔ اگر یہ صحیح ہوتا تو ان سے پہلے لوگوں پر ان کے جرائم اور تکذیب کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ اپنا عذاب کیوں نازل کرتا؟ (ابن کثیر)
➍ {قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ ……: } یعنی تم جو یہ عذر پیش کر رہے ہو وہ کسی عقلی یا علمی بنیاد پر قائم نہیں ہے، اگر تمھارے پاس علم کی کوئی بات ہے تو لاؤ اور پیش کرو۔ کبھی دنیا کی کسی چیز کے حاصل کرنے کے لیے بھی تم نے تقدیر کو بہانہ بنا کر جدوجہد کو ترک کیا ہے، یا اﷲ تعالیٰ نے تمھیں پہلے بتا دیا ہے کہ میں نے آئندہ اس طرح کرنا ہے۔ جب تمھیں معلوم ہی نہیں کہ تقدیر میں کیا ہے تو یہ بہانہ یا شبہ محض تمھارا وہم و گمان ہے اور تم لوگ صرف اٹکل لگا کر اﷲ تعالیٰ پر بہتان باندھ رہے ہو، جب کہ حقیقت کی دنیا میں وہم و گمان کی کچھ حیثیت نہیں۔ دیکھیے سورۂ نجم(۲۳ اور ۲۸)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[161] یعنی انہیں مشرکانہ رسوم و رواج کے لیے تمہارے پاس کتاب الٰہی سے کوئی دلیل ہے۔ جن کا ذکر سابقہ آیات میں ہو چکا اور ظاہر ہے کہ جب کوئی علمی دلیل نہ ہو تو باقی صرف ظن و گمان ہی رہ جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ فرماتا ہے «كَذَٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ» ’ اسی شبہ نے ان سے پہلی قوموں کو تباہ کر دیا ‘۔ اگر یہ بات سچ ہوتی تو ان کے پہلے باپ دادا پر ہمارے عذاب کیوں آتے؟ رسولوں کی نافرمانی اور شرک و کفر پر مصر رہنے کی وجہ سے وہ روئے زمین سے ذلت کے ساتھ یوں ہٹا دیئے جاتے؟ اچھا تمہارے پاس اللہ کی رضا مندی کا کوئی سرٹیفکیٹ ہو تو پیش کرو۔
ہم تو دیکھتے ہیں کہ تم وہم پرست ہو فاسد عقائد پر جمے ہوئے ہو اور اٹکل پچو باتیں اللہ کے ذمے گھڑ لیتے ہو۔ وہ بھی یہی کہتے تھے تم بھی یہی کہتے ہو کہ ہم ان معبودوں کی عبادت اسلئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے ملا دیں حالانکہ وہ نہ ملانے والے ہیں نہ اس کی انہیں قدرت ہے، ان سے تو اللہ نے سمجھ بوجھ چھین رکھی ہے، ہدایت و گمراہی کی تقسیم میں بھی اللہ کی حکمت اور اس کی حجت ہے، سب کام اس کے ارادے سے ہو رہے ہیں وہ مومنوں کو پسند فرماتا ہے اور کافروں سے ناخوش ہے۔
فرمان ہے آیت «وَلَوْ شَاءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَي الْهُدٰي فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:35] ’ اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو راہ حق پر جمع کر دیتا پس تم ہرگز نادانوں میں نہ ہونا ‘۔
اور آیت میں ہے «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا» ۱؎ [10-یونس:99] ’ اگر تیرے رب کی چاہت ہوتی تو سب لوگوں کو ایک ہی امت کر دیتا ‘۔
اور جگہ ہے «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» ۱؎ [11-ھود:118، 119] ’ یہ تو اختلاف سے نہیں ہٹیں گے سوائے ان لوگوں کے جن پر تیرا رب رحم کرے بلکہ انہیں اللہ نے اسی لیے پیدا کیا ہے تیرے رب کی یہ بات حق ہے کہ میں جنات اور انسان سے جہنم کو پر کر دونگا ‘۔
حقیقت بھی یہی ہے کہ نافرمانوں کی کوئی حجت اللہ کے ذمہ نہیں بلکہ اللہ کی حجت بندوں پر ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا إخبار من الله أن المشركين سيحتجُّون على شركهم وتحريمهم ما أحل الله بالقضاء والقدر، ويجعلون مشيئة الله الشاملة لكلِّ شيءٍ من الخير والشرِّ حجةً لهم في دفع اللوم عنهم، وقد قالوا ما أخبر الله أنهم سيقولونه؛ كما قال في الآية الأخرى: {وقال الذين أشْرَكوا لو شاءَ اللهُ ما عَبَدْنا من دونِهِ من شيءٍ ... } الآية فأخبر تعالى أنَّ هذه الحجة لم تزل الأممُ المكذِّبة تدفعُ بها عنهم دعوةَ الرسل ويحتجُّون بها، فلم تُجْدِ فيهم شيئاً ولم تنفعْهم، فلم يزلْ هذا دأبَهم حتى أهلكهم الله وأذاقهم بأسه؛ فلو كانت حجةً صحيحةً؛ لدفعتْ عنهم العقابَ، ولَمَا أحلَّ الله بهم العذاب؛ لأنَّه لا يحلُّ بأسه إلا بمن استحقه فعلم أنها حجة فاسدة وشبهة كاسدة من عدة أوجه:
منها: ما ذكر الله من أنها لو كانت صحيحةً لم تحلَّ بهم العقوبة.
ومنها: أن الحجة لا بدَّ أن تكون حجةً مستندةً إلى العلم والبرهان، فأما إذا كانت مستندةً إلى مجرَّد الظنِّ والخرص الذي لا يغني من الحقِّ شيئاً؛ فإنها باطلة، ولهذا قال: {قل هل عندَكم من علم فتخرِجوه لنا}؛ فلو كان لهم علمٌ ـ وهم خصومٌ ألدَّاء ـ لأخرجوه، فلما لم يخرِجوه؛ عُلِمَ أنه لا علم عندهم. {إن تتَّبعون إلَّا الظَّنَّ وإنْ أنتم إلَّا تَخْرُصُونَ}: ومن بنى حُججه على الخرص والظنِّ؛ فهو مبطل خاسر؛ فكيف إذا بناها على البغي والعناد والشرِّ والفساد.