تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 147

فَاِنۡ کَذَّبُوۡکَ فَقُلۡ رَّبُّکُمۡ ذُوۡ رَحۡمَۃٍ وَّاسِعَۃٍ ۚ وَ لَا یُرَدُّ بَاۡسُہٗ عَنِ الۡقَوۡمِ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿۱۴۷﴾
پھر اگر وہ تجھے جھٹلائیں تو کہہ دے تمھارا رب وسیع رحمت والا ہیاور اس کا عذاب مجرم لوگوں سے ہٹایا نہیں جاتا۔ En
اور اگر یوں لوگ تمہاری تکذیب کریں تو کہہ دو تمہارا پروردگار صاحب رحمت وسیع ہے مگر اس کا عذاب گنہ گاروں لوگوں سے نہیں ٹلے گا
En
پھر اگر یہ آپ کو کاذب کہیں تو آپ فرما دیجئے کہ تمہارا رب بڑی وسیع رحمت واﻻ ہے اور اس کا عذاب مجرم لوگوں سے نہ ٹلے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی اگر یہ مشرکین آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو آپ ترغیب و ترہیب کے ذریعے سے ان کو دعوت دیتے رہیے اور ان کو آگاہ کیجیے کہ اللہ تعالیٰ ﴿ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ بے پایاں رحمت کا مالک ہے جو تمام مخلوقات کو شامل ہے۔ لہذا اس کی رحمت کی طرف اس کے اسباب کے ذریعے سے سبقت کرو۔ جس کی اساس اور بنیاد محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان پر نازل ہونے والی وحی کی تصدیق ہے۔ ﴿ وَلَا یُرَدُّ بَ٘اْسُهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ اور اس کا عذاب گناہ گاروں سے نہیں ٹالا جاتا یعنی جن کے جرائم اور گناہ بہت بڑھ گئے ہوں، اس لیے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دینے والے جرائم سے بچو، ان میں سب سے بڑا جرم محمد مصطفی صلوات اللہ علیہ وسلامہ کی تکذیب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: فإن كذَّبك هؤلاء المشركون؛ فاسْتَمِرَّ على دعوتهم بالترغيب والترهيب، وأخبرْهم بأن الله {ذو رحمةٍ واسعةٍ}؛ أي: عامة شاملة لجميع المخلوقات كلِّها؛ فسارِعوا إلى رحمته بأسبابها التي رأسُها وأُسُّها ومادتها تصديق محمد - صلى الله عليه وسلم - فيما جاء به. {ولا يُرَدُّ بأسُهُ عن القوم المجرمين}؛ أي: الذين كَثُرَ إجرامهم وذنوبهم؛ فاحذَروا الجرائم الموصلة لبأس الله التي أعظمها ورأسها تكذيب محمد - صلى الله عليه وسلم -.