تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
چنانچہ فرمایا: ﴿ وَلَهٗمَاسَكَنَفِیالَّیْلِوَالنَّهَارِ ﴾”اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ کہ آرام پکڑتا ہے رات میں اور دن میں “ یہ جن و انس، فرشتے، حیوانات اور جمادات سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔ یہ سب اللہ کی تدبیر کے تحت ہیں یہ سب اللہ کے غلام ہیں جو اپنے رب عظیم اور مالک قاہر کے سامنے مسخر ہیں۔۔۔ کیا عقل و نقل کے اعتبار سے یہ بات صحیح ہے کہ ان غلام اور مملوک ہستیوں کی عبادت کی جائے جو کسی نفع و نقصان پر قادر نہیں اور خالق کائنات کے لیے اخلاص کو ترک کر دیا جائے جو کائنات کی تدبیر کرتا، اس کا مالک اور نفع و نقصان کا اختیار رکھتا ہے؟ یا عقل سلیم اور فطرت مستقیم اس بات کی داعی ہے کہ اللہ رب العالمین کے لیے ہرقسم کی عبادت کو خالص کیا جائے، محبت، خوف اور امید صرف اسی سے ہو؟ ﴿ وَهُوَالسَّمِیْعُ﴾”وہ سنتا ہے۔“ اختلاف لغات اور تنوع حاجات کے باوجود وہ تمام آوازوں کو سنتا ہے ﴿الْعَلِیْمُ﴾”وہ جانتا ہے۔“ وہ ان تمام چیزوں کو جانتا ہے جو تھیں اور جو مستقبل میں ہوں گی اور ان کو بھی جانتا ہے جو نہ تھیں کہ اگر وہ ہوتیں تو کیسی ہوتیں، اللہ تعالیٰ ظاہر و باطن ہر چیز کی اطلاع رکھتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فذكر أن {له} تعالى {ما سَكَنَ في الليل والنهار}، وذلك هو المخلوقاتُ كلُّها من آدميِّها وجنِّها وملائكتها وحيواناتها وجماداتها؛ فالكلُّ خَلْقٌ مدبَّرون وعبيدٌ مسخَّرون لربِّهم العظيم القاهر المالك؛ فهل يصحُّ في عقل ونقل أن يُعْبَدَ من هؤلاء المماليك الذي لا نفع عنده ولا ضُرَّ ويُتْرَكَ الإخلاصُ للخالق المدبِّر المالك الضارِّ النافع؟! أم العقول السليمة والفطر المستقيمة تدعو إلى إخلاص العبادة والحبِّ والخوف والرجاء لله ربِّ العالمين؟ {السميع}: لجميع الأصوات على اختلاف اللُّغات بتفنُّن الحاجات. {العليم}: بما كان وما يكونُ وما لم يكنْ لو كان كيف كان يكونُ، المطَّلع على الظواهر والبواطن.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔