وَ لَہٗ مَا سَکَنَ فِی الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ ؕ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۱۳﴾
اور اسی کا ہے جو کچھ رات اور دن میں ٹھہرا ہوا ہے اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
En
اور جو مخلوق رات اور دن میں بستی ہے سب اسی کی ہے اور وہ سنتا جانتا ہے
En
اور اللہ ہی کی ملک ہیں وه سب کچھ جو رات میں اور دن میں رہتی ہیں اور وہی بڑا سننے واﻻ بڑا جاننے واﻻ ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 13) {وَ لَهٗ مَا سَكَنَ فِي الَّيْلِ وَ النَّهَارِ …:} گزشتہ آیت: «قُلْ لِّمَنْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ» میں مکان (جگہ) کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے ہر جگہ بادشاہ ہونے کا بیان تھا، اس آیت میں زمان اور وقت کے اعتبار سے اس کی بادشاہی عام ہونے کا ذکر ہے۔ کیونکہ آسمان و زمین کے سوا کوئی مکان (جگہ) نہیں اور رات اور دن کے سوا کوئی زمانہ (وقت) نہیں، گویا ہر جگہ اور ہر وقت اسی کی حکومت اور اسی کا قبضہ و اقتدار ہے۔ پھر یہ ثابت کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ تمام جگہوں اور تمام اوقات اور زمانوں کا مالک ہے، فرمایا: «وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» یعنی وہ ہر چیز کی دعا اور پکار سنتا ہے۔ {”الْعَلِيْمُ “} ہر چیز کے عمل اور اس کی ضرورت سے آگاہ ہے تو پھر کسی اور کو پکارنے کی ضرورت کیا ہے۔ یاد رہے کہ یہاں {” مَا سَكَنَ “} میں سکون سے مراد حلول، یعنی رہنا ہے اور سکون جو حرکت کی ضد ہے وہ مراد نہیں۔ اس لیے ٹھہرا ہوا ہے کا معنی بھی یہی ہے کہ جو بھی رات اور دن میں بس رہا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
13۔ رات اور دن میں جو کچھ آباد ہے سب اسی کا ہے اور وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ہر چیز کا مالک اللہ ہے ٭٭
آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے، سب اللہ کا ہے، اس نے اپنے نفس مقدس پر رحمت لکھ لی ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو جب پیدا کیا تو ایک کتاب لکھی جو اس کے پاس اس کے عرش کے اوپر ہے کہ میری رحمت غضب پر غالب ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3194]
پھر اپنے پاک نفس کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ ’ وہ اپنے بندوں کو قیامت کے دن ضرور جمع کرے گا اور وہ دن یقیناً آنے والا ہے شکی لوگ چاہے شک شبہ کریں لیکن وہ ساعت اٹل ہے ‘۔
{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ کیا اس دن پانی بھی ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اس دن پانی ہو گا، اولیاء اللہ ان ہوضوں پر آئیں گے جو انبیاء علیہم السلام کی ہوں گی۔ ان حوضوں کی نگہبانی کیلئے ایک ہزار فرشتے نور کی لکڑیاں لیے ہوئے مقرر ہوں گے جو کافروں کو وہاں سے ہٹا دیں گے } }۔ ۱؎ [ضعیف] یہ حدیث ابن مردویہ میں ہے لیکن ہے غریب۔
پھر اپنے پاک نفس کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ ’ وہ اپنے بندوں کو قیامت کے دن ضرور جمع کرے گا اور وہ دن یقیناً آنے والا ہے شکی لوگ چاہے شک شبہ کریں لیکن وہ ساعت اٹل ہے ‘۔
{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ کیا اس دن پانی بھی ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اس دن پانی ہو گا، اولیاء اللہ ان ہوضوں پر آئیں گے جو انبیاء علیہم السلام کی ہوں گی۔ ان حوضوں کی نگہبانی کیلئے ایک ہزار فرشتے نور کی لکڑیاں لیے ہوئے مقرر ہوں گے جو کافروں کو وہاں سے ہٹا دیں گے } }۔ ۱؎ [ضعیف] یہ حدیث ابن مردویہ میں ہے لیکن ہے غریب۔
ترمذی شریف کی حدیث میں ہے { ہر نبی علیہ السلام کے لیے ہوض ہو گا مجھے امید ہے کہ سب سے زیادہ لوگ میرے حوض پر آئیں گے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2443،قال الشيخ الألباني:صحیح]
جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور اس دن کو نہیں مانتے وہ اپنی جانوں سے خود ہی دشمنی رکھتے ہیں اور اپنا نقصان آپ ہی کرتے ہیں، زمین و آسمان کی ساکن چیزیں یعنی کل مخلوق اللہ کی ہی پیدا کردہ ہے اور سب اس کے ماتحت ہے، سب کا مالک وہی ہے، وہ سب کی باتیں سننے والا اور سب کی حرکتیں جاننے والا ہے، چھپا کھلا سب اس پر روشن ہے۔
جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور اس دن کو نہیں مانتے وہ اپنی جانوں سے خود ہی دشمنی رکھتے ہیں اور اپنا نقصان آپ ہی کرتے ہیں، زمین و آسمان کی ساکن چیزیں یعنی کل مخلوق اللہ کی ہی پیدا کردہ ہے اور سب اس کے ماتحت ہے، سب کا مالک وہی ہے، وہ سب کی باتیں سننے والا اور سب کی حرکتیں جاننے والا ہے، چھپا کھلا سب اس پر روشن ہے۔
پھر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جنہیں توحید خالص کے ساتھ اور کامل شریعت کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ حکم دیتا ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعلان کر دیں کہ آسمان و زمین پیدا کرنے والے اللہ کے سوا میں کسی اور کو اپنا دوست و مددگار نہیں جانتا، وہ ساری مخلوق کا رازق ہے سب اس کے محتاج ہیں اور وہ سب سے بے نیاز ہے ‘۔
فرماتا ہے ’ میں نے تمام انسانوں جنوں کو اپنی غلامی اور عبادت کیلئے پیدا کیا ہے ‘، ایک قرأت میں «وَلَا یَطْعَمُ» بھی ہے یعنی ’ وہ خود نہیں کھاتا ‘۔
فرماتا ہے ’ میں نے تمام انسانوں جنوں کو اپنی غلامی اور عبادت کیلئے پیدا کیا ہے ‘، ایک قرأت میں «وَلَا یَطْعَمُ» بھی ہے یعنی ’ وہ خود نہیں کھاتا ‘۔
{ قباء کے رہنے والے ایک انصاری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھانا تناول فرما کر ہاتھ دھو چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ کا شکر ہے جو سب کو کھلاتا ہے اور خود نہیں کھاتا، اس کے بہت بڑے احسان ہم پر ہیں کہ اس نے ہمیں ہدایت دی اور کھانے پینے کو دیا اور تمام بھلائیاں عطا فرمائیں اللہ کا شکر ہے جسے ہم پورا ادا کر ہی نہیں سکتے اور نہ اسے چھوڑ سکتے ہیں، ہم اس کی ناشکری نہیں کرتے، نہ اس سے کسی وقت ہم بے نیاز ہو سکتے ہیں، «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اللہ نے ہمیں کھانا کھلایا، پانی پلایا، کپڑے پہنائے، گمراہی سے نکال کر رہ راست کھائی، اندھے پن سے ہٹا کر آنکھیں عطا فرمائیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر ہمیں فضیلت عنایت فرمائی۔ اللہ ہی کے لیے سب تعریفیں مختص ہیں جو تمام جہان کا پالنہار ہے } }۔ ۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:10133/6:صحیح]
پھر فرماتا ہے کہ ’ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! اعلان کر دو کہ مجھے حکم ملا ہے کہ اس امت میں سب سے پہلے اللہ کا غلام میں بن جاؤں ‘۔ پھر فرماتا ہے ’ خبردار ہرگز ہرگز مشرکوں سے نہ ملنا، یہ بھی اعلان کر دیجئیے کہ مجھے خوف ہے اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو مجھے قیامت کے دن عذاب ہوں گے جو اس روز عذابوں سے محفوظ رکھا گیا یقین ماننا کہ اس پر رحمت رب نازل ہوئی، سچی کامیابی یہی ہے ‘
اور آیت میں فرمایا ہے «فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ» ۱؎ [3-آل عمران:185] ’ جو بھی جہنم سے ہٹا دیا گیا اور جنت میں پہنچا دیا گیا اس نے منہ مانگی مراد پالی ‘۔ «فَوْزٌ» کے معنی نفع مل جانے اور نقصان سے بچ جانے کے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! اعلان کر دو کہ مجھے حکم ملا ہے کہ اس امت میں سب سے پہلے اللہ کا غلام میں بن جاؤں ‘۔ پھر فرماتا ہے ’ خبردار ہرگز ہرگز مشرکوں سے نہ ملنا، یہ بھی اعلان کر دیجئیے کہ مجھے خوف ہے اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو مجھے قیامت کے دن عذاب ہوں گے جو اس روز عذابوں سے محفوظ رکھا گیا یقین ماننا کہ اس پر رحمت رب نازل ہوئی، سچی کامیابی یہی ہے ‘
اور آیت میں فرمایا ہے «فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ» ۱؎ [3-آل عمران:185] ’ جو بھی جہنم سے ہٹا دیا گیا اور جنت میں پہنچا دیا گیا اس نے منہ مانگی مراد پالی ‘۔ «فَوْزٌ» کے معنی نفع مل جانے اور نقصان سے بچ جانے کے ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
چنانچہ فرمایا: ﴿ وَلَهٗ مَا سَكَنَ فِی الَّیْلِ وَالنَّهَارِ ﴾ ”اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ کہ آرام پکڑتا ہے رات میں اور دن میں “ یہ جن و انس، فرشتے، حیوانات اور جمادات سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔ یہ سب اللہ کی تدبیر کے تحت ہیں یہ سب اللہ کے غلام ہیں جو اپنے رب عظیم اور مالک قاہر کے سامنے مسخر ہیں۔۔۔ کیا عقل و نقل کے اعتبار سے یہ بات صحیح ہے کہ ان غلام اور مملوک ہستیوں کی عبادت کی جائے جو کسی نفع و نقصان پر قادر نہیں اور خالق کائنات کے لیے اخلاص کو ترک کر دیا جائے جو کائنات کی تدبیر کرتا، اس کا مالک اور نفع و نقصان کا اختیار رکھتا ہے؟ یا عقل سلیم اور فطرت مستقیم اس بات کی داعی ہے کہ اللہ رب العالمین کے لیے ہرقسم کی عبادت کو خالص کیا جائے، محبت، خوف اور امید صرف اسی سے ہو؟ ﴿ وَهُوَ السَّمِیْعُ﴾ ”وہ سنتا ہے۔“ اختلاف لغات اور تنوع حاجات کے باوجود وہ تمام آوازوں کو سنتا ہے ﴿الْعَلِیْمُ﴾ ”وہ جانتا ہے۔“ وہ ان تمام چیزوں کو جانتا ہے جو تھیں اور جو مستقبل میں ہوں گی اور ان کو بھی جانتا ہے جو نہ تھیں کہ اگر وہ ہوتیں تو کیسی ہوتیں، اللہ تعالیٰ ظاہر و باطن ہر چیز کی اطلاع رکھتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فذكر أن {له} تعالى {ما سَكَنَ في الليل والنهار}، وذلك هو المخلوقاتُ كلُّها من آدميِّها وجنِّها وملائكتها وحيواناتها وجماداتها؛ فالكلُّ خَلْقٌ مدبَّرون وعبيدٌ مسخَّرون لربِّهم العظيم القاهر المالك؛ فهل يصحُّ في عقل ونقل أن يُعْبَدَ من هؤلاء المماليك الذي لا نفع عنده ولا ضُرَّ ويُتْرَكَ الإخلاصُ للخالق المدبِّر المالك الضارِّ النافع؟! أم العقول السليمة والفطر المستقيمة تدعو إلى إخلاص العبادة والحبِّ والخوف والرجاء لله ربِّ العالمين؟ {السميع}: لجميع الأصوات على اختلاف اللُّغات بتفنُّن الحاجات. {العليم}: بما كان وما يكونُ وما لم يكنْ لو كان كيف كان يكونُ، المطَّلع على الظواهر والبواطن.