کہہ کس کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے؟ کہہ اللہ کا ہے، اس نے اپنے آپ پر رحم کرنا لکھ دیا ہے، یقینا وہ تمھیں قیامت کے دن کی طرف (لے جا کر) ضرور جمع کرے گا، جس میں کوئی شک نہیں۔ وہ لوگ جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا، سو وہی ایمان نہیں لاتے۔
En
(ان سے) پوچھو کہ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے کس کا ہے کہہ دو خدا کا اس نے اپنی ذات (پاک) پر رحمت کو لازم کر لیا ہے وہ تم سب کو قیامت کے دن جس میں کچھ بھی شک نہیں ضرور جمع کرے گا جن لوگوں نے اپنے تیئیں نقصان میں ڈال رکھا ہے وہ ایمان نہیں لاتے
آپ کہئے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں موجود ہے یہ سب کس کی ملکیت ہے، آپ کہہ دیجئے کہ سب اللہ ہی کی ملکیت ہے، اللہ نے مہربانی فرمانا اپنے اوپر ﻻزم فرما لیا ہے تم کو اللہ قیامت کے روز جمع کرے گا، اس میں کوئی شک نہیں، جن لوگوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈاﻻ ہے سو وه ایمان نہیں ﻻئیں گے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے ﴿قُ٘لْ ﴾”کہہ دیجیے“ یعنی ان مشرکین سے توحید کا اقرار کرواتے اور ان پر اس کی حجت ثابت کرتے ہوئے کہیے ﴿لِّ٘مَنْمَّافِیالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِ ﴾”کس کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے؟“ یعنی جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے کس نے پیدا کیا۔ کون ان کا مالک اور ان میں تصرف کرنے والا ہے ﴿قُ٘لْ ﴾ ان سے کہہ دیجیے ﴿ لِّلّٰهِ﴾”اللہ کا ہے“ وہ اس کا اقرار کرتے ہیں انکار نہیں کرتے، کیا جب وہ یہ اقرار کرتے ہیں کہ وہ اکیلا ہی کائنات کا مالک اور اس کی تدبیر کرنے والا ہے تو اس کے لیے توحید اور اخلاص کا اعتراف کیوں نہیں کرتے؟ ﴿ كَتَبَعَلٰىنَفْسِهِالرَّحْمَةَ ﴾”اس نے لکھا ہے کہ اپنے نفس پر رحم کرنا“ یعنی تمام عالم علوی اور عالم سفلی، اس کے اقتدار اور تدبیر کے تحت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی رحمت اور احسان کی چادر پھیلا رکھی ہے اور اس کی بے پایاں رحمت نے ان سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ اس نے اپنے لیے لکھ رکھا ہے کہ ”اس کی رحمت اس کے غصے پر غالب ہے۔“عطا کرنا اس کے نزدیک محروم کرنے سے زیادہ محبوب ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام بندوں کے لیے رحمت کے دروازے کھول دیے ہیں اگر بندے اپنے گناہوں کے سبب خود ان کو اپنے آپ پر بند نہ کر لیں، پھر اس نے انھیں ان دروازوں میں داخل ہونے کی دعوت دی ہے اگر ان کے گناہ اور عیب ان کو ان دروازوں کی طلب سے روک نہ دیں۔ ﴿ لَیَجْمَعَنَّـكُمْاِلٰىیَوْمِالْقِیٰمَةِلَارَیْبَفِیْهِ ﴾”البتہ اکٹھا کرے گا تم کو قیامت کے دن جس میں کوئی شک نہیں “ اور یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے قسم ہے اور وہ سب سے زیادہ سچی خبر دینے والا ہے اور اس پر اس نے ایسے براہین و دلائل قائم کیے ہیں جو اسے حق الیقین قرار دیتے ہیں مگر ان ظالموں نے دلائل و براہین کو ٹھکرا دیا اور اللہ تعالیٰ کی اس قدرت کا انکار کر دیا کہ وہ مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا اور گناہ کرنے میں جلدی کی اور اس کے ساتھ کفر کرنے کی جسارت کی، پس وہ دنیا و آخرت میں خسارے میں پڑ گئے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿اَلَّذِیْنَخَسِرُوْۤااَنْفُسَهُمْفَهُمْلَایُؤْمِنُوْنَ ﴾”جن لوگوں نے اپنے آپ کو نقصان میں ڈال لیا تو وہ ایمان نہیں لاتے“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى لنبيه - صلى الله عليه وسلم -: {قُلْ} لهؤلاء المشركين [باللهِ] مقرِّراً لهم وملزماً بالتوحيد: {لِمَن ما في السموات والأرض}؛ أي: من الخالق لذلك المالك له المتصرِّف فيه؟ {قُلْ} لهم: {لله}، وهم مقرُّون بذلك لا ينكرونه، أفلا حين اعترفوا بانفرادِ الله بالملك والتدبير أن يعترِفوا له بالإخلاص والتوحيد؟ وقوله: {كَتَبَ على نفسه الرحمةَ}؛ أي: العالم العلويُّ والسفليُّ تحت ملكه وتدبيرِهِ، وهو تعالى قد بَسَطَ عليهم رحمته وإحسانه، وتغمَّدهم برحمته وامتنانه، وكتب على نفسه كتاباً: أنَّ رحمته تغلب غضبه، وأن العطاء أحبُّ إليه من المنع، وأن الله قد فتح لجميع العباد أبواب الرحمة إن لم يغلقوا عليهم أبوابها بذُنوبهم، ودعاهم إليها إن لم تمنعهم من طلبها معاصيهم وعيوبهم. وقوله: {لَيَجْمَعَنَّكم إلى يوم القيامة لا ريبَ فيه}: وهذا قَسَمٌ منه، وهو أصدق المخبرين، وقد أقام على ذلك من الحجج والبراهين ما يجعله حقَّ اليقين، ولكن أبى الظالمون إلا جحوداً، وأنكروا قدرة الله على بعث الخلائِق، فأوضعوا في معاصيه، وتجرَّؤوا على الكفر به، فخسروا دنياهم وأخراهم، ولهذا قال: {الذين خَسِروا أنفسَهم فهم لا يؤمنونَ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔