تو وہ شخص جسے اللہ چاہتا ہے کہ اسے ہدایت دے ، اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کہ اسے گمراہ
کرے اس کا سینہ تنگ ، نہایت گھٹا ہوا کر دیتا ہے ، گویا وہ مشکل سے آسمان میں چڑھ رہا ہے ، اسی طرح اللہ ان لوگوں پر گندگی ڈال دیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے ۔
En
تو جس شخص کو خدا چاہتا ہے کہ ہدایت بخشے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا کر دیتا ہے گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے اس طرح خدا ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے عذاب بھیجتا ہے
سو جس شخص کو اللہ تعالیٰ راستہ پر ڈالنا چاہے اس کے سینہ کو اسلام کے لیے کشاده کر دیتا ہے اور جس کو بےراه رکھنا چاہے اس کے سینہ کو بہت تنگ کر دیتا ہے جیسے کوئی آسمان میں چڑھتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ ایمان نہ ﻻنے والوں پر ناپاکی مسلط کر دیتا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کے سامنے بندے کی سعادت و ہدایت اور اس کی شقاوت و ضلالت کی علامات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جس کو اسلام کے لیے انشراح صدر ہو جاتا ہے یعنی اس کا سینہ وسیع ہو جاتا ہے۔ تو دل نور ایمان سے منور اور یقین کے پرتو سے زندہ ہو جاتا ہے اور نفس ایمان پر مطمئن ہو جاتا ہے، نفس نیکی سے محبت کرنے لگتا ہے اور وہ نیکی میں لذت محسوس کرتے ہوئے نیکی کرتا ہے نیکی کو بوجھ نہیں سمجھتا۔ پس یہ اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ہدایت عطا کر دی ہے اور اسے توفیق سے نواز کر سب سے درست راستے پر گامزن کر دیا ہے۔ اور جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کرنے کا ارادہ کر لیتا ہے اس کی علامت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا کر دیتا ہے یعنی اس کا سینہ ایمان، علم اور یقین کے لیے بہت تنگ ہو جاتا ہے، اس کا دل شبہات و شہوات کے سمندر میں غرق ہوجاتا ہے، بھلائی اس تک راہ نہیں پا سکتی، نہ بھلائی اور نیکی کے لیے اس کو انشراح صدر حاصل ہوتا ہے۔ گویا وہ سخت تنگی اور شدت میں ہے، گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے، یعنی اسے آسمان پر چڑھنے کا مکلف کیا جارہا ہے جہاں چڑھنے کا اس کے اندر کوئی حیلہ نہیں۔
یہ ہے ان کے عدم ایمان کا سبب اور یہی وہ چیز ہے جو اس بات کی موجب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر عذاب بھیجے کیونکہ انھوں نے خود اپنے آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور احسان کے دروازے بند کر لیے۔ یہ ایسی میزان ہے جو کبھی خیانت نہیں کرتی اور ایسا راستہ ہے جو کبھی نہیں بدلتا۔ بے شک جو کوئی اللہ کے راستے میں مال عطا کرتا ہے، اللہ سے ڈرتا ہے، نیکی کی تصدیق کرتا ہے تو ہم اس کو آسان راستے (بھلائی) کی توفیق عطا کر دیتے ہیں اور جو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں بخل کرتا ہے اور بے پروا بنا رہتا ہے اور نیکی کو جھٹلاتا ہے تو ہم اس کو مشکل راستے (گناہ) پر گامزن کردیتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى مبيِّناً لعبادِهِ علامة سعادة العبد وهدايته وعلامة شقاوته وضلاله: إنَّ مَن انشرح صدره للإسلام؛ أي: اتسع وانفسح فاستنار بنور الإيمان وحيي بضوء اليقين فاطمأنت بذلك نفسه وأحبَّ الخير وطوَّعت له نفسُهُ فعلَه متلذذاً به غير مستثقل؛ فإن هذا علامة على أن اللهَ قد هداه ومنَّ عليه بالتوفيق وسلوك أقوم الطريق، وأنَّ علامة من يُرِدِ اللهُ {أن يُضِلَّه}: أنه {يجعلْ صدرَه ضيِّقاً حَرَجاً}؛ أي: في غاية الضيق عن الإيمان والعلم واليقين، قد انغمس قلبُهُ في الشبهات والشهوات، فلا يصل إليه خير، لا ينشرحُ قلبه لفعل الخير. كأنه من ضيقه وشدَّته يكاد {يَصَّعَّدُ في السماء}؛ أي: كأنه يكلَّف الصعود إلى السماء الذي لا حيلة فيه، وهذا سببه عدم إيمانهم؛ هو الذي أوجب أن يجعل الله الرجس عليهم؛ لأنهم سدُّوا على أنفسهم باب الرحمة والإحسان، وهذا ميزان لا يعول وطريق لا يتغير؛ فإنَّ مَن أعطى واتَّقى وصدَّق بالحسنى؛ ييسِّره الله لليسرى، ومن بخل واستغنى وكذب بالحسنى؛ فسيُيَسِّره للعسرى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔