تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ اس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ رسالت کی طرح ہدایت و گمراہی بھی اس کے ہاتھ میں ہے، وہ اپنے نظام عدل کے مطابق جسے ہدایت دینا چاہتا ہے اس کا سینہ صحیح بات تسلیم کرنے کے لیے کھول دیتا ہے، اس کے لیے ہدایت کے راستے آسان کر دیتا ہے، اسے حق قبول کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی اور وہ آسانی سے اپنے آپ کو اﷲ اور اس کے رسول کے تابع فرمان کر دیتا ہے اور جسے اس کی سرکشی کے باعث ہدایت نہیں دینا چاہتا اس کا سینہ حق قبول کرنے کے لیے تنگ اور نہایت گھٹا ہوا کر دیتا ہے، جیسا کہ وہ بلندی کی طرف مشکل سے چڑھ رہا ہے، جوں جوں اوپر چڑھتا ہے، ایک تو چڑھائی کی وجہ سے دوسرے آکسیجن کے کم اور پھر ختم ہونے کی وجہ سے سانس ہی نہیں لے سکتا۔ جو لوگ حق سمجھ کر انکار کا راستہ اختیار کرنے والے ہیں ان پر ایمان کی طہارت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے کفر کی گندگی چڑھتی چلی جاتی ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۶، ۷)، سورۂ توبہ (۱۲۵)، سورۂ لیل (۵ تا ۱۰) اور سورۂ یونس(۱۰۰)۔
➌ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”اوپر فرمایا تھا کہ کافر قسمیں کھاتے ہیں کہ ایک آیت (نشانی) دیکھیں تو ضرور یقین لے آئیں گے، اب فرمایا کہ ہم نہ دیں گے ایمان تو کیونکر لائیں گے۔ بیچ میں مردہ حلال کرنے کے حیلے ذکر کیے، اب اس بات کا جواب فرمایا کہ جس کی عقل اس طرف چلے کہ اپنی بات کو نہ چھوڑے، جو دلیل دیکھے کچھ حیلہ بنا لے، وہ نشان ہے گمراہی کا اور جس کی عقل چلے انصاف پر اور حکم برداری پر وہ نشان ہدایت ہے۔ ان لوگوں میں نشان ہیں گمراہی کے، ان کو کوئی آیت اثر نہ کرے گی۔“ (موضح)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[133] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس مقام پر رجس کا ترجمہ شیطان سے کیا ہے اس طرح مطلب یہ ہو گا کہ ہم ایسے شخص پر ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں جو اسے ایمان لانے کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتا۔ نیز رجس کا معنی ناپاکی بھی ہے اور عذاب بھی۔ ترجمہ میں ناپاکی ہی معنیٰ لکھا گیا ہے اور اگر عذاب ہو تو اس سے مراد ہے کہ دنیا میں اس پر لعنت کا عذاب مسلط کر دیا جاتا ہے اور آخرت میں جو عذاب ہو گا وہ سخت تر ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور آیت میں فرمایا «وَلٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَيْكُمُ الْاِيْمَانَ وَزَيَّنَهٗ فِيْ قُلُوْبِكُمْ وَكَرَّهَ اِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْيَانَ اُولٰىِٕكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَ» ۱؎ [49-الحجرات:7] ’ اللہ نے تمہارے دلوں میں ایمان کی محبت پیدا کر دی اور اسے تمہارے دلوں میں زینت دار بنا دیا اور کفر فسق اور نافرمانی کی تمہارے دلوں میں کراہیت ڈال دہی یہی لوگ راہ یافتہ اور نیک بخت ہیں ‘ -
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس کا دل ایمان و توحید کی طرف کشادہ ہو جاتا ہے۔“ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ سب سے زیادہ دانا کون سا مومن ہے؟ فرمایا: { سب سے زیادہ موت کو یاد رکھنے والا اور سب سے زیادہ موت کے بعد کی زندگی کے لیے تیاریاں کرنے والا } }۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی بابت سوال ہوا تو فرمایا کہ { اس کے دل میں ایک نور ڈال دیا جاتا ہے جس سے اس کا سینہ کھل جاتا ہے }، لوگوں نے اس کی نشانی درریافت کی تو فرمایا: { جنت کی طرف جھکنا اور اس کی جانب رغبت کام رکھنا اور دنیا کے فریب سے بھاگنا اور الگ ہونا اور موت کے آنے سے پہلے تیاریاں کرنا } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:13857:ضعیف]
«ضَيِّقًا» کی ایک قرأت «ضَيْقًا» بھی ہے۔ «حَرَجًا» کی دوسری «حَرِجاً» بھی ہے یعنی گنہگار یا دونوں کے ایک ہی معنی یعنی تنگ جو ہدایت کے لیے نہ کھلے اور ایمان اس میں جگہ نہ پائے۔
ایک مرتبہ ایک بادیہ نشین بزرگ سے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے «حَرجه» کے بارے میں دریافت فرمایا تو اس نے کہا یہ ایک درخت ہوتا ہے جس کے پاس نہ تو چرواہے جاتے ہیں نہ جانور نہ وحشی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”سچ ہے ایسا ہی منافق کا دل ہوتا ہے کہ اس میں کوئی بھلائی جگہ پاتی ہی نہیں۔“
سیدنا ابن عباس کا قول ہے کہ ”اسلام باوجود آسان اور کشادہ ہونے کے اسے سخت اور تنگ معلوم ہوتا ہے۔“ خود قرآن میں ہے «وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ» ۱؎ [22-الحج:78] ’ اللہ نے تمہارے دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی ‘۔ لیکن منافق کا شکی دل اس نعمت سے محروم رہتا ہے اسے «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کا اقرار ایک مصیبت معلوم ہوتی ہے، جیسے کسی پر آسمان پر جڑھائی مشکل ہو، جیسے وہ اس کے بس کی بات نہیں اسی طرح توحید و ایمان بھی اس کے قبضے سے باہر ہیں۔
پس مردہ دل والے کبھی بھی اسلام قبول نہیں کرتے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ بے ایمانوں پر شیطان مقرر کر دیتا ہے جو انہیں بہکاتے رہتے ہیں اور خیر سے ان کے دل کو تنگ کرتے رہتے ہیں۔ نحوست ان پر برستی رہتی ہے اور عذاب ان پر اتر آتے ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى مبيِّناً لعبادِهِ علامة سعادة العبد وهدايته وعلامة شقاوته وضلاله: إنَّ مَن انشرح صدره للإسلام؛ أي: اتسع وانفسح فاستنار بنور الإيمان وحيي بضوء اليقين فاطمأنت بذلك نفسه وأحبَّ الخير وطوَّعت له نفسُهُ فعلَه متلذذاً به غير مستثقل؛ فإن هذا علامة على أن اللهَ قد هداه ومنَّ عليه بالتوفيق وسلوك أقوم الطريق، وأنَّ علامة من يُرِدِ اللهُ {أن يُضِلَّه}: أنه {يجعلْ صدرَه ضيِّقاً حَرَجاً}؛ أي: في غاية الضيق عن الإيمان والعلم واليقين، قد انغمس قلبُهُ في الشبهات والشهوات، فلا يصل إليه خير، لا ينشرحُ قلبه لفعل الخير. كأنه من ضيقه وشدَّته يكاد {يَصَّعَّدُ في السماء}؛ أي: كأنه يكلَّف الصعود إلى السماء الذي لا حيلة فيه، وهذا سببه عدم إيمانهم؛ هو الذي أوجب أن يجعل الله الرجس عليهم؛ لأنهم سدُّوا على أنفسهم باب الرحمة والإحسان، وهذا ميزان لا يعول وطريق لا يتغير؛ فإنَّ مَن أعطى واتَّقى وصدَّق بالحسنى؛ ييسِّره الله لليسرى، ومن بخل واستغنى وكذب بالحسنى؛ فسيُيَسِّره للعسرى.