تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 126

وَ ہٰذَا صِرَاطُ رَبِّکَ مُسۡتَقِیۡمًا ؕ قَدۡ فَصَّلۡنَا الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّذَّکَّرُوۡنَ ﴿۱۲۶﴾
اور یہ تمھارے رب کا راستہ ہے سیدھا۔ بے شک ہم نے ان لوگوں کے لیے آیات کھول کر بیان کر دی ہیں جو نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ En
اور یہی تمہارے پروردگار کا سیدھا رستہ ہے جو لوگ غور کرنے والے ہیں ان کے لیے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کر دی ہیں
En
اور یہی تیرے رب کا سیدھا راستہ ہے۔ ہم نے نصیحت حاصل کرنے والوں کے واسطے ان آیتوں کو صاف صاف بیان کردیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی آپ کے رب تک اور عزت و تکریم کے گھر تک پہنچانے والا راستہ معتدل راستہ ہے جس کے احکام واضح کر دیے گئے ہیں جس کے قوانین کی تفصیل یہاں بیان کر دی گئی ہے اور خیر کو شر سے ممیز کر دیا گیا۔ یہ تفصیل و توضیح ہر شخص کے لیے نہیں ہے بلکہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو نصیحت پکڑتے ہیں۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو علم رکھتے ہیں، پھر اپنے علم سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان کے لیے بہت بڑی جزا اور خوبصورت اجر تیار کیا گیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: معتدلاً موصلاً إلى الله وإلى دار كرامتِهِ، قد بُيِّنَتْ أحكامُه، وفصِّلت شرائعه، وميز الخير من الشر. ولكن هذا التفصيل والبيان ليس لكل أحد، إنما هو {لقومٍ يَذَّكَّرونَ}؛ فإنهم الذين علموا فانتفعوا بعلمهم، وأعد الله لهم الجزاء الجزيل والأجر الجميل.