تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 11

قُلۡ سِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ ثُمَّ انۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۱۱﴾
کہہ دے زمین میں چلو، پھر دیکھو جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا؟ En
کہو کہ (اے منکرین رسالت) ملک میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا
En
آپ فرما دیجئے کہ ذرا زمین میں چلو پھرو پھر دیکھ لو کہ تکذیب کرنے والوں کا کیا انجام ہوا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قُ٘لْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْ٘ظُ٘رُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ۠ کہو کہ ملک میں چلو پھراور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔ یعنی اگر تمھیں اس بارے میں کوئی شک و شبہ ہے تو زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔ تم دیکھو گے کہ ایسی قوم ہلاک کر دی گئی اور ایسی امتیں عذاب میں مبتلا کر دی گئیں۔ ان کے گھر ویران ہو گئے اور ان عیش کدوں میں رہ کر مسرتوں کے مزے لوٹنے والے نیست و نابود ہو گئے۔۔۔ اللہ جبار نے ان کو ہلاک کر دیا اور اہل بصیرت کے لیے ان کو نشان عبرت بنا دیا۔ یہ (سَیْر) جس کا حکم دیا گیا ہے بدنی اور قلبی سیر کو شامل ہے جس سے عبرت جنم لیتی ہے۔ رہا عبرت حاصل کیے بغیر چل پھر کر دیکھنا تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فإن شككتُم في ذلك أو ارتَبْتم؛ {فسيروا في الأرض ثم انظُروا كيف كان عاقبةُ المكذِّبين}؛ فلن تجدوا إلا قوماً مُهْلَكين، وأمماً في المَثُلات تالفين، قد أوحشت منهم المنازل، وعَدِمَ من تلك الرُّبوع كلُّ متمتِّع بالسرور نازل، أبادهم الملك الجبار، وكان نبؤهم عِبرةً لأولي الأبصار. وهذا السير المأمور به سير القلوب والأبدان الذي يتولَّد منه الاعتبار، وأما مجرَّد النظر من غير اعتبار؛ فإن ذلك لا يفيد شيئاً.