تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 115

وَ تَمَّتۡ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدۡقًا وَّ عَدۡلًا ؕ لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖ ۚ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۱۱۵﴾
اور تیرے رب کی بات سچ اور انصاف کے اعتبار سے پوری ہوگئی، اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ En
اور تمہارے پروردگار کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہیں اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور وہ سنتا جانتا ہے
En
آپ کے رب کا کلام سچائی اور انصاف کے اعتبار سے کامل ہے، اس کے کلام کا کوئی بدلنے واﻻ نہیں اور وه خوب سننے واﻻ خوب جاننے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا اور آپ کے رب کی بات پوری سچی ہے اور انصاف کی یعنی خبر میں صداقت اور اوامر و نواہی میں عدل ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کتاب عزیز میں جو خبریں بیان کی ہیں ان سے سچی کوئی خبر نہیں اور اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی سے بڑھ کر کسی حکم میں عدل و انصاف نہیں۔ ﴿ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ اس کی بات کو کوئی بدلنے والا نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت فرمائی ہے اور صدق کی مختلف انواع اور حق کے ذریعے سے ان کو محکم کیا ہے، اس لیے ان میں تغیر و تبدل کرنا ممکن نہیں اور نہ اس سے زیادہ خوبصورت کلام وجود میں لایا جا سکتا ہے ﴿وَهُوَ السَّمِیْعُ اور وہ سنتا ہے وہ مختلف زبانوں اور متفرق حاجتوں پر مبنی تمام آوازوں کو سن سکتا ہے ﴿الْعَلِیْمُ جانتا ہے۔ جس کا علم ظاہر و باطن اور ماضی و مستقبل ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم وصف تفصيلها فقال: {وتمَّتْ كلمةُ ربِّك صدقاً وعدلاً}؛ أي: صدقاً في الإخبار وعدلاً في الأمر والنهي؛ فلا أصدق من أخبار الله التي أودعها هذا الكتاب العزيز، ولا أعدل من أوامره ونواهيه، {لا مبدِّلَ لكلماتِهِ}؛ حيثُ حفظها وأحكمها بأعلى أنواع الصدق وبغاية الحقِّ؛ فلا يمكن تغييرها ولا اقتراح أحسن منها. {وهو السميع}: لسائر الأصوات، باختلاف اللغات، على تفنن الحاجات، {العليم}: الذي أحاط علمُهُ بالظواهر والبواطن والماضي والمستقبل.