تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 114

اَفَغَیۡرَ اللّٰہِ اَبۡتَغِیۡ حَکَمًا وَّ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ اِلَیۡکُمُ الۡکِتٰبَ مُفَصَّلًا ؕ وَ الَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ یَعۡلَمُوۡنَ اَنَّہٗ مُنَزَّلٌ مِّنۡ رَّبِّکَ بِالۡحَقِّ فَلَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِیۡنَ ﴿۱۱۴﴾
تو کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور منصف تلاش کروں، حالانکہ اسی نے تمھاری طرف یہ کتاب مفصل نازل کی ہے اور وہ لوگ جنھیں ہم نے کتاب دی ہے، وہ جانتے ہیں کہ یہ تیرے رب کی طرف سے حق کے ساتھ نازل کی ہوئی ہے، پس تو ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ ہو۔ En
(کہو) کیا میں خدا کے سوا اور منصف تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہاری طرف واضع المطالب کتاب بھیجی ہے اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب (تورات) دی ہے وہ جانتے ہیں کہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق نازل ہوئی ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا
En
تو کیا اللہ کے سوا کسی اور فیصلہ کرنے والے کو تلاش کروں حاﻻنکہ وه ایسا ہے کہ اس نے ایک کتاب کامل تمہارے پاس بھیج دی ہے، اس کے مضامین خوب صاف صاف بیان کئے گئے ہیں اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وه اس بات کو یقین کے ساتھ جانتے ہیں کہ یہ آپ کے رب کی طرف سے حق کے ساتھ بھیجی گئی ہے، سو آپ شبہ کرنے والوں میں سے نہ ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ان سے کہہ دیجیے ﴿ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْ٘تَ٘غِیْ حَكَمًا کیا میں اللہ کے سوا کوئی منصف تلاش کروں اور اس کے پاس اپنے فیصلے لے کر جاؤں اور اس کے اوامر و نواہی کی پابندی کروں؟ کیونکہ غیر اللہ حاکم نہیں محکوم ہوتا ہے اور مخلوق کے لیے ہر تدبیر اور ہر فیصلہ نقص، عیب اور ظلم و جور پر مشتمل ہوتا ہے اور جسے حاکم بنانا واجب ہے، وہ صرف اللہ وحدہ لا شریک لہ کی ذات ہے جو خلق و امر کی مالک ہے۔ ﴿ وَّهُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ اِلَیْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا حالانکہ اسی نے اتاری ہے تم پر کتاب واضح یعنی جس میں حلال و حرام، احکام شریعت اور دین کے اصول و فروع واضح کیے گئے ہیں، اس کی توضیح سے بڑھ کر کوئی توضیح نہیں، اس کی دلیل سے روشن کوئی دلیل نہیں، اس کے فیصلے سے اچھا کوئی فیصلہ نہیں اور اس کی بات سے زیادہ درست کسی کی بات نہیں کیونکہ اس کے احکام حکمت و رحمت پر مشتمل ہیں۔
کتب سابقہ کے حاملین یہود و نصاریٰ اس حقیقت کو پہچانتے ہیں ﴿ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ اور جانتے ہیں کہ وہ آپ کے رب کی طرف سے ٹھیک نازل ہوئی ہے اسی لیے اخبار سابقہ اس کی موافقت کرتی ہیں ﴿ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ پس آپ اس بارے میں شک و شبہ میں مبتلا نہ ہوں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: قلْ يا أيُّها الرسولُ: {أفغير الله أبتغي حَكَماً}: أحاكم إليه وأتقيَّد بأوامره ونواهيه؛ فإن غير الله محكومٌ عليه لا حاكم، وكلُّ تدبير وحكم للمخلوق؛ فإنه مشتمل على النقص والعيب والجور، وإنما الذي يجب أن يُتَّخذ حاكماً؛ فهو الله وحده لا شريك له، الذي له الخلق والأمر {الذي أنزل إليكم الكتاب مفصَّلاً}؛ أي: موضحاً فيه الحلال والحرام والأحكام الشرعية وأصول الدين وفروعه، الذي لا بيان فوقَ بيانِهِ، ولا برهانَ أجلى من برهانه، ولا أحسن منه حكماً، ولا أقوم قيلاً؛ لأنَّ أحكامه مشتملة على الحكمة والرحمة، وأهل الكتب السابقة من اليهود والنصارى يعترفون بذلك و {يعلمونَ أنَّه منزَّلٌ من ربِّك بالحقِّ}: ولهذا تواطأت الإخبارات، {فلا} تَشُكَّنَّ في ذلك ولا {تكوننَّ من الممترين}.