تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 116

وَ اِنۡ تُطِعۡ اَکۡثَرَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ یُضِلُّوۡکَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ اِنۡ یَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنۡ ہُمۡ اِلَّا یَخۡرُصُوۡنَ ﴿۱۱۶﴾
اور اگر تو ان لوگوں میں سے اکثر کا کہنا مانے جو زمین میں ہیں تو وہ تجھے اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے، وہ تو گمان کے سوا کسی چیز کی پیروی نہیں کرتے اور وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ اٹکل دوڑاتے ہیں۔ En
اور اکثر لوگ جو زمین پر آباد ہیں (گمراہ ہیں) اگر تم ان کا کہا مان لو گے تو وہ تمہیں خدا کا رستہ بھلا دیں گے یہ محض خیال کے پیچھے چلتے اور نرے اٹکل کے تیر چلاتے ہیں
En
اور دنیا میں زیاده لوگ ایسے ہیں کہ اگر آپ ان کا کہنا ماننے لگیں تو وه آپ کو اللہ کی راه سے بے راه کردیں وه محض بے اصل خیاﻻت پر چلتے ہیں اور بالکل قیاسی باتیں کرتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کی اکثریت کی اطاعت سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا ہے ﴿وَاِنْ تُ٘طِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اگر آپ کہنا مانیں گے اکثر ان لوگوں کا جو دنیا میں ہیں تو وہ آپ کو بہکا دیں گے کیونکہ ان میں سے اکثر لوگ اپنے دین، اعمال اور علوم سے منحرف ہو چکے ہیں۔ پس ان کے دین فاسد اور ان کے اعمال ان کی خواہشات نفس کے تابع ہیں اور ان کے علوم میں تحقیق ہے نہ سیدھے راستے کی طرف راہنمائی۔ ان کا تمام تر مقصد ظن و گمان کی پیروی ہے اور ظن و گمان حق کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آتا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں محض اندازوں سے ایسی بات کہتے ہیں جس کا انھیں علم نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى لنبيِّه محمد - صلى الله عليه وسلم - محذراً عن طاعة أكثر الناس: {وإن تُطِعْ أكثرَ مَنْ في الأرض يضلُّوكَ عن سبيل الله}: فإنَّ أكثرهم قدِ انحرفوا في أديانهم وأعمالهم وعلومهم؛ فأديانُهم فاسدةٌ، وأعمالُهم تبعٌ لأهوائِهِم، وعلومُهم ليس فيها تحقيقٌ ولا إيصالٌ لسواء الطريق، بل غايتُهم أنَّهم يتَّبعون الظنَّ الذي لا يغني من الحقِّ شيئاً، ويتخرَّصون في القول على الله ما لا يعلمون.