اور اگر ہم ان کی طرف فرشتے اتار دیتے اور ان سے مردے گفتگو کرتے اور ہم ہر چیز ان کے پاس سامنے لا جمع کرتے تو بھی وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لے آتے مگر یہ کہ اللہ چاہے اور لیکن ان کے اکثر جہالت برتتے ہیں۔
En
اور اگر ہم ان پر فرشتے بھی اتار دیتے اور مردے بھی ان سے گفتگو کرنے لگتے اور ہم سب چیزوں کو ان کے سامنے لا موجود بھی کر دیتے تو بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے اِلّا ماشائالله بات یہ ہے کہ یہ اکثر نادان ہیں
اور اگر ہم ان کے پاس فرشتوں کو بھیج دیتے اور ان سے مردے باتیں کرنے لگتے اور ہم تمام موجودات کو ان کے پاس ان کی آنکھوں کے روبرو ﻻ کر جمع کر دیتے ہیں تب بھی یہ لوگ ہرگز ایمان نہ ﻻتے ہاں اگر اللہ ہی چاہے تو اور بات ہے لیکن ان میں زیاده لوگ جہالت کی باتیں کرتے ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اسی طرح ان کا اپنے ایمان کو اپنے ارادے اور خود اپنی مشیت سے معلق کرنا اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ نہ کرنا، سب سے بڑی غلطی ہے۔ کیونکہ اگر ان کے پاس بڑی بڑی نشانیاں اور معجزات بھی آ جائیں، فرشتے نازل ہو کر رسول کی رسالت کی شہادت دے دیں، ان کے ساتھ مردے باتیں کرنے لگیں اور خود ان کو مارنے کے بعد دوبارہ زندہ کردیا جائے ﴿ وَحَشَرْنَاعَلَیْهِمْكُ٘لَّ٘شَیْءٍ ﴾”اور زندہ کر دیں ہر چیز کو ان کے سامنے“حتیٰ کہ وہ ان کے ساتھ باتیں کریں ﴿قُبُلًا﴾”سامنے“ یعنی ان کے سامنے نظر آتے ہوئے اس چیز کی تصدیق کریں جسے لے کر رسول آیا ہے، تب بھی ان کے حصے میں ایمان نہیں آسکتا، اگر اللہ کی مشیت ان کے ایمان لانے کی نہ ہو۔ مگر ان میں سے اکثر جاہل ہیں اسی لیے انھوں نے اپنے ایمان کو مجرد آیات و معجزات کے ساتھ مشروط کیا ہے۔
عقل اور علم کا تقاضا تو یہ ہے کہ بندے کا مطلوب و مقصود اتباع حق ہو اور وہ اسے ان طریقوں سے تلاش کرے جنھیں اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا ہے، حق پر عمل کرے اور اس کی اتباع میں اپنے رب کی مدد طلب کرے۔ اپنے نفس اور اپنی قوت و اختیار پر بھروسہ نہ کرے اور ان آیات و معجزات کا مطالبہ نہ کرے جن کا کوئی فائدہ نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وكذلك تعليقهم الإيمان بإرادتهم ومشيئتهم وحدهم وعدم الاعتماد على الله من أكبر الغلط؛ فإنهم لو جاءتهم الآياتُ العظيمة من تنزيل الملائكة إليهم يشهدون للرسول بالرسالة وتكليم الموتى وبعثهم بعد موتهم، وحشرنا عليهم كلَّ شيءٍ حتى يكلِّمهم قبلاً ومشاهدةً ومباشرة بصدق ما جاء به الرسول؛ ما حَصَلَ لهم الإيمان إذا لم يشأ الله إيمانهم، ولكن أكثرهم يجهلون؛ فلذلك رتَّبوا إيمانهم على مجرد إتيان الآيات، وإنما العقل والعلم أن يكون العبد مقصوده اتِّباع الحق، ويطلبه بالطرق التي بيَّنها الله، ويعمل بذلك، ويستعين ربَّه في اتباعه، ولا يتَّكل على نفسه وحوله وقوته، ولا يطلب من الآيات الاقتراحية ما لا فائدة فيه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔