اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے انسانوں اور جنوں کے شیطانوں کو دشمن بنا دیا، ان کا بعض بعض کی طرف ملمع کی ہوئی بات دھوکا دینے کے لیے دل میں ڈالتا رہتا ہے اور اگر تیرا رب چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے۔ پس چھوڑ انھیں اور جو وہ جھوٹ گھڑتے ہیں۔
En
اور اسی طرح ہم نے شیطان (سیرت) انسانوں اور جنوں کو ہر پیغمبر کا دشمن بنا دیا تھا وہ دھوکا دینے کے لیے ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی باتیں ڈالتے رہتے تھے اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو اور جو کچھ یہ افتراء کرتے ہیں اسے چھوڑ دو
اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن بہت سے شیطان پیدا کئے تھے کچھ آدمی اور کچھ جن، جن میں سے بعض بعضوں کو چکنی چپڑی باتوں کا وسوسہ ڈالتے رہتے تھے تاکہ ان کو دھوکہ میں ڈال دیں اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو یہ ایسے کام نہ کرسکتے سو ان لوگوں کو اور جو کچھ یہ افترا پردازی کر رہے ہیں اس کو آپ رہنے دیجئے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے جس طرح ہم نے آپ کے دشمن بنا دیے جو آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہیں اور آپ سے حسد کرتے ہیں تو یہ ہماری سنت ہے، ہم ہر نبی کے، جس کو ہم مخلوق کی طرف مبعوث کرتے ہیں، جن اور انسانوں میں سے دشمن مقرر کر دیتے ہیں وہ ان تمام امور کی مخالفت کرتے ہیں جنھیں رسول لے کر آئے ہیں۔ ﴿ یُوْحِیْبَعْضُ٘هُمْاِلٰىبَعْضٍزُخْرُفَالْقَوْلِغُ٘رُوْرًا ﴾”سکھلاتے ہیں وہ ایک دوسرے کو ملمع کی ہوئی باتیں، فریب دینے کے لیے“ یعنی وہ ایک دوسرے کو ان باطل امور کو سجا کر اور مزین کر کے پیش کرتے ہیں جن کی طرف وہ دعوت دیتے ہیں اور وہ اس کی تعبیرات کو آراستہ کر کے بہترین اسلوب میں پیش کرتے ہیں تاکہ بیوقوف اس سے دھوکہ کھا جائیں اور سیدھے سادے لوگ ان کے سامنے سراطاعت خم کر دیں جو حقائق کا فہم رکھتے ہیں نہ معانی کو سمجھتے ہیں بلکہ خوبصورت الفاظ اور ملمع سازی ان کو اچھی لگتی ہے، پس وہ حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھنے لگتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى مسلياً لرسولِه [محمدٍ]- صلى الله عليه وسلم -: وكما جعلنا لك أعداء يردُّون دعوتك ويحاربونك ويحسدونك؛ فهذه سنتنا أن نجعل لكلِّ نبي نرسله إلى الخلق أعداءً من شياطين الإنس والجن يقومون بضد ما جاءت به الرسل، {يوحي بعضُهم إلى بعض زُخْرُفَ القول غروراً}؛ أي: يزين بعضُهم لبعض الأمر الذي يدعون إليه من الباطل ويزخرفونَ له العبارات حتى يجعلوه في أحسن صورة ليغترَّ به السفهاءُ وينقادَ له الأغبياءُ الذين لا يفهمون الحقائق ولا يفقهون المعاني، بل تعجبهم الألفاظ المزخرفة والعبارات المموِّهة، فيعتقدون الحقَّ باطلاً والباطل حقًّا.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔