تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 110

وَ نُقَلِّبُ اَفۡـِٕدَتَہُمۡ وَ اَبۡصَارَہُمۡ کَمَا لَمۡ یُؤۡمِنُوۡا بِہٖۤ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّ نَذَرُہُمۡ فِیۡ طُغۡیَانِہِمۡ یَعۡمَہُوۡنَ ﴿۱۱۰﴾٪
اور ہم ان کے دلوں اور ان کی آنکھوں کو پھیر دیں گے، جیسے وہ اس پر پہلی بار ایمان نہیں لائے اور انھیں چھوڑ دیں گے، اپنی سر کشی میں بھٹکتے پھریں گے۔ En
اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے (تو) جیسے یہ اس (قرآن) پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے (ویسے پھر نہ لائیں گے) اور ان کو چھوڑ دیں گے کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں
En
اور ہم بھی ان کے دلوں کو اور ان کی نگاہوں کو پھیر دیں گے جیسا کہ یہ لوگ اس پر پہلی دفعہ ایمان نہیں ﻻئے اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں حیران رہنے دیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَنُقَلِّبُ اَفْــِٕدَتَهُمْ وَاَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ اور ہم الٹ دیں گے ان کے دل اور ان کی آنکھیں جیسے کہ ایمان نہیں لائے نشانیوں پر پہلی بار اور ہم چھوڑے رکھیں گے ان کو ان کی سرکشی میں بہکتے ہوئے یعنی جب ان کے پاس حق کی دعوت دینے والا آیا اور ان پر حجت قائم ہو گئی مگر وہ ایمان نہیں لائے۔ اس پہلی مرتبہ کے انکار کے نتیجے میں ہم ان کو عذاب دیں گے ان کے دلوں کو حق سے پھیر کر، ان کے اور ایمان کے درمیان حائل ہو کر اور صراط مستقیم پر گامزن ہونے کی توفیق سے محروم کرکے۔ یہ بندوں کے ساتھ اس کا عدل اور اس کی حکمت ہے۔ انھوں نے اپنے آپ پر جرم کا ارتکاب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دروازہ کھولا مگر وہ اس میں داخل نہیں ہوئے، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ہدایت کا راستہ واضح کر دیا لیکن وہ اس پر گامزن نہ ہوئے۔ اگر اس کے بعد ان کو توفیق سے محروم کر دیا گیا تو یہ ان کے احوال کے عین مطابق ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ونُقَلِّبُ أفئدتَهم وأبصارَهم كما لم يؤمِنوا به أولَ مرةٍ ونذرُهم في طُغيانهم يعمَهونَ}؛ أي: ونعاقبهم إذا لم يؤمنوا أول مرة يأتيهم فيه الداعي وتقوم عليهم الحجَّة بتقليب القلوب والحيلولة بينهم وبين الإيمان وعدم التوفيق لسلوك الصراط المستقيم، وهذا من عدل الله وحكمته بعباده؛ فإنهم الذين جَنَوْا على أنفسهم، وفُتح لهم الباب فلم يدخلوا، وبُيِّن لهم الطريق فلم يسلكوا؛ فبعد ذلك إذا حُرِموا التوفيق؛ كان مناسباً لأحوالهم.