اور بلاشبہ یقینا تجھ سے پہلے کئی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا، تو ان لوگوں کو جنھوںنے ان میں سے مذاق اڑایا تھا، اسی چیز نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔
En
اور تم سے پہلے بھی پیغمبروں کے ساتھ تمسخر ہوتے رہے ہیں سو جو لوگ ان میں سے تمسخر کیا کرتے تھے ان کو تمسخر کی سزا نے آگھیرا
اور واقعی آپ سے پہلے جو پیغمبر ہوئے ہیں ان کے ساتھ بھی استہزا کیا گیا ہے۔ پھر جن لوگوں نے ان سے مذاق کیا تھا ان کو اس عذاب نے آ گھیرا جس کا تمسخر اڑاتے تھے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے اور اسے صبر کی تلقین کرتا ہے اور اس کے دشمنوں کو تہدید و وعید سناتے ہوئے کہتا ہے ﴿ وَلَقَدِاسْتُهْزِئَبِرُسُلٍمِّنْقَبْلِكَ﴾”اور تحقیق استہزا کیا گیا رسولوں سے، آپ سے پہلے۔“جب وہ واضح دلائل کے ساتھ اپنی امتوں کے پاس آئے تو انھوں نے ان کو جھٹلایا انھوں نے ان کے ساتھ اور ان کی تعلیمات کے ساتھ استہزا کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کفر اور تکذیب کے باعث ہلاک کر دیا اور عذاب میں سے ان کو پورا پورا حصہ دیا۔ ﴿ فَحَاقَبِالَّذِیْنَسَخِرُوْامِنْهُمْمَّاكَانُوْابِهٖیَسْتَهْزِءُوْنَ۠﴾”پس گھیر لیا ان کو جو ان میں سے استہزا کرنے والے تھے، اس چیز نے جس کے ساتھ وہ استہزا کرتے تھے“ پس اے جھٹلانے والو! جھٹلانے کی روش پر قائم رہنے سے باز آجاؤ، ورنہ تمھیں بھی وہی عذاب آ لے گا جو ان قوموں پر آیا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى مسلياً لرسوله ومصبِّراً ومتهدداً أعداءه ومتوعداً: {ولقد استُهْزِئ برسل من قبلِكَ}: لما جاؤوا أممهم بالبينات؛ كذَّبوهم واستهزؤوا بهم وبما جاؤوا به، فأهلكهم الله بذلك الكفر والتكذيب، ووفَّى لهم من العذاب أكمل نصيب، {فحاق بالذين سَخِروا منهم ما كانوا به يستهزِئونَ}: فاحذروا أيُّها المكذبون أن تستمِرُّوا على تكذيبكم، فيصيبكم ما أصابهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔