تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 9

وَ لَوۡ جَعَلۡنٰہُ مَلَکًا لَّجَعَلۡنٰہُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسۡنَا عَلَیۡہِمۡ مَّا یَلۡبِسُوۡنَ ﴿۹﴾
اور اگر ہم اسے فرشتہ بناتے تو یقینا اسے آدمی بناتے اور ضرور ان پر وہی شبہ ڈالتے جو وہ (اپنے آپ پر اور دوسروں پر) ڈال رہے ہیں۔ En
نیز اگر ہم کسی فرشتہ کو بھیجتے تو اسے مرد کی صورت میں بھیجتے اور جو شبہ (اب) کرتے ہیں اسی شبے میں پھر انہیں ڈال دیتے
En
اور اگر ہم اس کو فرشتہ تجویز کرتے تو ہم اس کو آدمی ہی بناتے اور ہمارے اس فعل سے پھر ان پر وہی اشکال ہوتا جو اب اشکال کر رہے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بایں ہمہ اگر فرشتہ نازل کر کے ان کی طرف رسول بنا کر بھیج دیا جائے تو وہ اس سے کچھ سیکھنے کی طاقت رکھتے نہ اس کے متحمل ہو سکتے ہیں اور نہ ان کے قوائے فانی اس کا بوجھ اٹھانے کی طاقت رکھتے ہیں ﴿ وَلَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا اور اگر ہم رسول بنا کر بھیجتے کسی فرشتے کو تو وہ بھی آدمی ہی کی صورت میں ہوتا کیونکہ حکمت الہیہ اسی کا تقاضا کرتی ہے ﴿ وَّلَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ اور ان کو اسی شبہے میں ڈال دیتے جس میں اب پڑ رہے ہیں یعنی ان پر معاملہ مختلط ہو جاتا اور اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے خود اپنے آپ کو شبہ میں مبتلا کر لیا کیونکہ انھوں نے اپنے معاملے کی بنیاد اسی قاعدے پر رکھی جو مشتبہ تھا اور اس میں حق واضح نہیں تھا۔ پس جب صحیح طریقوں سے حق ان کے پاس آ گیا اور اس کے وہ قواعد بھی آ گئے جو اس کے حقیقی قواعد ہیں تو یہ حق ان کے لیے ہدایت کا باعث نہ بن سکا جبکہ دوسروں نے اس کے ذریعے سے ہدایت پائی۔ گناہ ان کا اپنا ہے کیونکہ انھوں نے خود اپنے آپ پر ہدایت کے دروازے بند کر کے گمراہی کے دروازے کھول لیے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ومع ذلك؛ فالمَلَك لو أُنزِل عليهم وأُرْسِل؛ لم يطيقوا التلقِّي عنه ولا احتملوا ذلك ولا أطاقته قُواهم الفانية، فلو {جَعَلْناه ملكاً لجعلناه رجلاً}: لأنَّ الحكمة لا تقتضي سوى ذلك، {ولَلَبَسْنا عليهم ما يَلْبِسونَ}؛ أي: ولكان الأمر مختلطاً عليهم وملبوساً، وذلك بسبب ما لَبَّسوه على أنفسهم؛ فإنهم بَنَوا أمرهم على هذه القاعدة التي فيها اللَّبْس وعدم بيان الحق، فلما جاءهم الحقُّ بطرقه الصحيحة وقواعده التي هي قواعدُه؛ لم يكنْ ذلك هدايةً لهم إذا اهتدى بذلك غيرهم، والذنب ذنبهم؛ حيث أغلقوا على أنفسهم باب الهدى، وفتحوا أبواب الضلال.