اور وہ لوگ جو اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں، پھر اس سے رجوع کرلیتے ہیں جو انھوں نے کہا ،تو ایک گردن آزاد کرنا ہے، اس سے پہلے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، یہ ہے وہ (کفارہ) جس کے ساتھ تم نصیحت کیے جائو گے،اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو، پور ی طرح باخبر ہے۔
En
اور جو لوگ اپنی بیویوں کو ماں کہہ بیٹھیں پھر اپنے قول سے رجوع کرلیں تو (ان کو) ہم بستر ہونے سے پہلے ایک غلام آزاد کرنا (ضروری) ہے۔ (مومنو) اس (حکم) سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے
جو لوگ اپنی بیویوں سے ﻇہار کریں پھر اپنی کہی ہوئی بات سے رجوع کرلیں تو ان کے ذمہ آپس میں ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے ایک غلام آزاد کرنا ہے، اس کے ذریعہ تم نصیحت کیے جاتے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَالَّذِیْنَیُظٰهِرُوْنَمِنْنِّسَآىِٕهِمْثُمَّیَعُوْدُوْنَلِمَاقَالُوْا﴾”جو اپنی بیویوں سے ظہار کر بیٹھیں، پھر انھوں نے جو کہا، اس سے رجوع کرلیں۔“ رجوع کرنے کے معنی میں اہل علم اختلاف کرتے ہیں۔ چنانچہ بعض کہتے ہیں کہ اس کا معنیٰ یہ ہے کہ جس عورت کے ساتھ ظہار کیا ہے اس کے ساتھ جماع کا عزم کیا جائے، مجرد عزم ہی سے ظہار کرنے والے پر مذکورہ کفارہ واجب ہے، اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کفارے کے بارے میں ذکر فرمایا کہ یہ کفارہ (اس بیوی کو) چھونے سے قبل ہے اور یہ مجرد عزم ہے۔
بعض کہتے ہیں کہ اس کا معنیٰ حقیقی جماع ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ ثُمَّیَعُوْدُوْنَلِمَاقَالُوْا﴾” پھر وہ اپنی بات سے رجوع کرلیں۔“ اور جو بات انھوں نے کہی وہ جماع (کو حرام کرنا) ہے۔ اور دونوں قولوں میں سے ہر ایک کے مطابق، جب بھی رجوع کیا جائے گا، تو بیوی کو اپنے اوپر حرام کرلینے کا کفارہ ہوگا۔ ﴿ فَتَحْرِیْرُرَقَبَةٍ﴾”تو ایک غلام آزاد کرنا ہے۔“ لیکن وہ مومن ہو، جیسا کہ دوسری آیت میں کہا گیا ہے۔ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ غلام یا لونڈی ان عیوب سے سلامت ہو جو کام کرنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ﴿مِّنْقَبْلِاَنْیَّتَمَآسَّا﴾”پہلے اس کے کہ وہ دونوں ہم بستری کریں۔“ یعنی شوہر پر لازم ہے کہ جب تک کہ وہ غلام آزاد کر کے کفارہ ادا نہ کرے اپنی اس بیوی سے جماع نہ کرے جس سے اس نے ظہار کیا ہے ﴿ذٰلِكُمْ﴾ یعنی یہ حکم جو ہم نے تمھارے لیے بیان کیا ہے ﴿تُوْعَظُوْنَبِهٖ﴾”اس کے ذر یعے سے تم نصیحت کیے جاتے ہو۔“ یعنی وہ تمھارے سامنے ترہیب سے مقرون اپنا حکم بیان کرتا ہے کیونکہ وعظ کا معنیٰ ترغیب و ترہیب کے ساتھ حکم کا ذکر کرنا ہے۔ پس جو شخص ظہار کا ارادہ کرتا ہے، جب اسے یاد آتا ہے کہ غلام آزاد کرنا پڑے گا، تو اس سے رک جاتا ہے ﴿وَاللّٰهُبِمَاتَعْمَلُوْنَخَبِیْرٌ﴾”اور اللہ تمھارے عملوں سے پوری طرح باخبر ہے۔“لہٰذا وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا و سزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{والذين يظاهِرونَ من نسائِهِم ثم يعودونَ لِما قالوا}: اختلف العلماء في معنى العَوْد، فقيل معناه العزمُ على جماع مَنْ ظاهر منها، وأنَّه بمجرَّد عزمِهِ؛ تجب عليه الكفَّارة المذكورة، ويدلُّ على هذا أنَّ الله تعالى ذَكَرَ في الكفَّارة أنَّها تكون قبل المسيس، وذلك إنَّما يكون بمجرَّد العزم، وقيل: معناه حقيقةُ الوطءِ، ويدلُّ على ذلك أنَّ الله قال: {ثم يعودونَ لِما قالوا}، والذي قالوا إنَّما هو الوطءُ، وعلى كلٍّ من القولين؛ فإذا وُجِدَ العَوْدُ؛ صار كفارةُ هذا التحريم {تحرير رقبةٍ}: مؤمنةٍ؛ كما قُيِّدَتْ في آية القتل ؛ ذكرٍ أو أنثى؛ بشرط أن تكون سالمةً من العيوب الضارَّة بالعمل {من قبل أن يَتَماسَّا}؛ أي: يلزم الزوج أن يترك وطء زوجته التي ظاهر منها حتى يكفِّرَ برقبة. {ذلكم}: الحكم الذي ذكرناه لكم {توعظونَ به}؛ أي: يبيِّن لكم حكمه مع الترهيب المقرون به؛ لأن معنى الوعظ ذكر الحكم مع الترغيب والترهيب فالذي يريد أن يظاهر؛ إذا ذَكَرَ أنَّ عليه عتقَ رقبةٍ؛ كفَّ نفسه عنه. {واللهُ بما تعملونَ خبيرٌ}: فيجازي كلَّ عامل بعمله.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔