وہ لوگ جو تم میں سے اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں ہیں، ان کی مائیں ان کے سوا کوئی نہیں جنھوں نے انھیں جنم دیا اور بلاشبہ وہ یقینا ایک بری بات اور جھوٹ کہتے ہیں اور بلاشبہ اللہ یقینا بے حد معاف کرنے والا، نہایت بخشنے والا ہے۔
En
جو لوگ تم میں سے اپنی عورتوں کو ماں کہہ دیتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں (ہوجاتیں) ۔ ان کی مائیں تو وہی ہیں جن کے بطن سے وہ پیدا ہوئے۔ بےشک وہ نامعقول اور جھوٹی بات کہتے ہیں اور خدا بڑا معاف کرنے والا (اور) بخشنے والا ہے
تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ﻇہار کرتے ہیں (یعنی انہیں ماں کہہ بیٹھتے ہیں) وه دراصل ان کی مائیں نہیں بن جاتیں، ان کی مائیں تو وہی ہیں جن کے بطن سے وه پیدا ہوئے، یقیناً یہ لوگ ایک نامعقول اور جھوٹی بات کہتے ہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ معاف کرنے واﻻ اور بخشنے واﻻ ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اَلَّذِیْنَیُظٰهِرُوْنَمِنْكُمْمِّنْنِّسَآىِٕهِمْمَّاهُنَّاُمَّهٰتِهِمْ١ؕاِنْاُمَّهٰتُهُمْاِلَّاالّٰٓـِٔيْوَلَدْنَهُمْ﴾”جو لوگ تم میں سے اپنی عورتوں سے ظہار کرلیتے ہیں، وہ ان کی مائیں نہیں (ہوجاتیں) ان کی مائیں تو وہی ہیں جنھوں نے ان کو جَنا۔“ بیوی کے ساتھ ظہار یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی سے کہے ”تو میرے لیے ایسے ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ“ یا ماں کے علاوہ دیگر محارم کا ذکر کرے یا یہ کہے ”تو مجھ پر حرام ہے“ عربوں کے ہاں اس موقع پر پیٹھ (اَلظِّھر) کا لفظ بولا جاتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو ”ظِہَار“ سے موسوم کیا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ اَلَّذِیْنَیُظٰهِرُوْنَمِنْكُمْمِّنْنِّسَآىِٕهِمْمَّاهُنَّاُمَّهٰتِهِمْ ﴾ یعنی وہ ایسی بات کیوں کر کہتے ہیں جس کے بارے میں انھیں معلوم ہے کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں، اور وہ اپنی بیویوں کو ان ماؤ ں سے تشبیہ دیتے ہیں جنھوں نے ان کو جنم دیا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ظہار کے معاملے کو بہت بڑا اور نہایت قبیح قرار دیا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ وَاِنَّهُمْلَیَقُوْلُوْنَمُنْؔكَرًامِّنَالْقَوْلِوَزُوْرًا﴾ یعنی وہ جھوٹی اور نہایت بری بات کہہ رہے ہیں۔ ﴿ وَاِنَّاللّٰهَلَعَفُوٌّغَفُوْرٌؔ﴾ یعنی اس سے جو کچھ مخالفت صادر ہوئی، پھر اس نے خالص توبہ کے ذریعے سے اس کا تدارک کیا، اللہ تعالیٰ اس کو معاف کرنے اور بخش دینے والا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{الذين يظاهِرونَ منكم من نسائِهِم ما هنَّ أمَّهاتِهم إن أمَّهاتُهم إلاَّ اللاَّئي وَلَدْنَهم}: المظاهرة من الزوجة أن يقولَ الرجل لزوجته: أنت عليَّ كظهرِ أمِّي، أو غيرها من محارمه، أو أنت عليَّ حرامٌ. وكان المعتاد عندَهم في هذا اللفظ الظهر، ولهذا سماه الله ظِهاراً، فقال: {الذين يظاهِرون منكم من نسائِهِم ما هنَّ أمَّهاتِهم}؛ أي: كيف يتكلَّمون بهذا الكلام الذي يعلمون أنَّه لا حقيقة له، فيشبهون أزواجهم بأمَّهاتِهم اللاَّتي ولدنهم؟! ولهذا عظَّم الله أمره وقبَّحه، فقال: {وإنَّهم لَيقولونَ منكراً من القول وزوراً}؛ أي: قولاً شنيعاً وكذباً ، {وإنَّ الله لَعَفُوٌّ غفورٌ}: عمَّن صَدَرَ منه بعضُ المخالفات فتداركَها بالتَّوْبَةِ النَّصوح.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔