تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ ظہار کا کفارہ مقرر کرنے سے ظاہر ہے کہ یہ طلاق نہیں بلکہ بیوی کو اپنے آپ پر حرام قرار دینے کے قبیل سے ہے۔ عام معاملات میں حلال کو اپنے آپ پر حرام کرنے کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے (دیکھیے تحریم: 2،1) مگر منکر و زور بات ہونے کی وجہ سے ظہار کا کفارہ سخت ہے۔ اب ظہار کرنے والے کے سامنے دو ہی صورتیں ہیں، اگر وہ بیوی سے قطع تعلق پر مصر ہے تو زیادہ سے زیادہ چار ماہ تک اس کا انتظار کیا جائے گا کہ کفارہ ادا کر کے دوبارہ تعلق استوار کر لے (دیکھیے بقرہ: ۲۲۶) پھر اسے کہا جائے گا کہ یا اسے طلاق دو یا کفارہ ادا کر کے اسے بیوی بنا کر رکھو۔ پھر اگر وہ اپنی بات سے رجوع پر تیار ہو تو کفارہ بالترتیب تین چیزوں میں سے ایک چیز ہے، اگر آدمی کے پاس طاقت ہو تو ہاتھ لگانے یعنی جماع سے پہلے ایک گردن آزاد کرے۔ یہ شرط اس لیے لگائی ہے کہ بیوی کے پاس جانے کی رغبت میں اس کے لیے اتنا بھاری جرمانہ آسان ہو جائے گا۔
➌ {فَتَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّتَمَآسَّا: ” رَقَبَةٍ “} کا معنی گردن ہے، مراد لونڈی یا غلام ہے، یعنی جز بول کر کل مراد لیا گیا ہے، تو ظہار کا کفارہ یہ ہے کہ اگر آدمی کے پاس طاقت ہو تو ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے ایک لونڈی یا غلام آزاد کرے۔ پہلے کی شرط اس لیے لگائی ہے کہ بیوی کے پاس جانے کی رغبت میں اس کے لیے اتنا بھاری جرمانہ آسان ہو جائے گا۔
➍ { ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ:} یعنی ہاتھ لگانے سے پہلے گردن آزاد کرنے کا حکم اس لیے دیا ہے کہ اس سے تمھیں آئندہ کے لیے نصیحت ہوگی کہ ایسا کام نہیں کیا کرتے۔
➎ { وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ:} یعنی اگر تم ظہار کے بعد گردن آزاد کیے بغیر ایک دوسرے کو ہاتھ لگاؤ گے تو کسی اور کو خبر ہو یا نہ ہو اللہ تعالیٰ تمھارے ہر کام سے پوری طرح باخبر ہے، تم نہ اس سے چھپ سکتے ہو اور نہ اس کی گرفت سے بچ سکتے ہو۔
➏ بیوی کو ماں کی طرح اپنے آپ پر حرام ٹھہرانے پر جو کفارہ ہے اگر اسے بہن یا بیٹی یا کسی بھی ایسی عورت کی طرح حرام کہہ دے جس سے نکاح حرام ہے تو اس پر بھی وہی کفارہ ہے، کیونکہ نکاح کی حرمت میں ان کے درمیان کوئی فرق نہیں، اس لیے جو حکم ماں کہنے کا ہے وہی سب کا ہو گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ان کا نام بعض روایتوں میں خویلہ کے بجائے خولہ رضی اللہ عنہا بھی آیا ہے اور بنت ثعلبہ کے بدلے بنت مالک بن ثعلبہ رضی اللہ عنہا بھی آیا ہے، ان اقوال میں کوئی ایسا اختلاف نہیں جو ایک دوسرے کے خلاف ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اس سورت کی ان شروع کی آیتوں کا صحیح شان نزول یہی ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{والذين يظاهِرونَ من نسائِهِم ثم يعودونَ لِما قالوا}: اختلف العلماء في معنى العَوْد، فقيل معناه العزمُ على جماع مَنْ ظاهر منها، وأنَّه بمجرَّد عزمِهِ؛ تجب عليه الكفَّارة المذكورة، ويدلُّ على هذا أنَّ الله تعالى ذَكَرَ في الكفَّارة أنَّها تكون قبل المسيس، وذلك إنَّما يكون بمجرَّد العزم، وقيل: معناه حقيقةُ الوطءِ، ويدلُّ على ذلك أنَّ الله قال: {ثم يعودونَ لِما قالوا}، والذي قالوا إنَّما هو الوطءُ، وعلى كلٍّ من القولين؛ فإذا وُجِدَ العَوْدُ؛ صار كفارةُ هذا التحريم {تحرير رقبةٍ}: مؤمنةٍ؛ كما قُيِّدَتْ في آية القتل ؛ ذكرٍ أو أنثى؛ بشرط أن تكون سالمةً من العيوب الضارَّة بالعمل {من قبل أن يَتَماسَّا}؛ أي: يلزم الزوج أن يترك وطء زوجته التي ظاهر منها حتى يكفِّرَ برقبة. {ذلكم}: الحكم الذي ذكرناه لكم {توعظونَ به}؛ أي: يبيِّن لكم حكمه مع الترهيب المقرون به؛ لأن معنى الوعظ ذكر الحكم مع الترغيب والترهيب فالذي يريد أن يظاهر؛ إذا ذَكَرَ أنَّ عليه عتقَ رقبةٍ؛ كفَّ نفسه عنه. {واللهُ بما تعملونَ خبيرٌ}: فيجازي كلَّ عامل بعمله.