تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المجادلة (58) — آیت 1

قَدۡ سَمِعَ اللّٰہُ قَوۡلَ الَّتِیۡ تُجَادِلُکَ فِیۡ زَوۡجِہَا وَ تَشۡتَکِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ ٭ۖ وَ اللّٰہُ یَسۡمَعُ تَحَاوُرَکُمَا ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌۢ بَصِیۡرٌ ﴿۱﴾
یقینا اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو تجھ سے اپنے خاوند کے بارے میں جھگڑ رہی تھی اور اللہ کی طرف شکایت کر رہی تھی اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا۔ بے شک اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ En
(اے پیغمبر) جو عورت تم سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث جدال کرتی اور خدا سے شکایت (رنج وملال) کرتی تھی۔ خدا نے اس کی التجا سن لی اور خدا تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا دیکھتا ہے
En
یقیناً اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سنی جو تجھ سے اپنے شوہر کے بارے میں تکرار کر رہی تھی اور اللہ کے آگے شکایت کر رہی تھی، اللہ تعالیٰ تم دونوں کے سوال وجواب سن رہا تھا، بیشک اللہ تعالیٰ سننے دیکھنے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ آیات کریمہ انصار میں سے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئیں، جب اس نے اپنی بیوی کو طویل مصاحبت اور اولاد ہونے کے بعد اپنے آپ پر حرام قرار دے لیا، تو اس کی بیوی نے اللہ تعالیٰ کے پاس شکایت کی اور اس کے خلاف مقدمہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ وہ ایک بوڑھا شخص تھا۔ اس خاتون نے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے حال اور اس شخص کے حال کے بارے میں شکوہ کیا اور بار بار کیا اور جرأت کے ساتھ اس کا اعادہ کیاتو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُكَ فِیْ زَوْجِهَا وَ تَشْتَكِيْۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖ ۗ وَاللّٰهُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَؔكُمَا (اے پیغمبر!) جو عورت آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث وجدال کرتی اور اللہ سے شکایت کرتی تھی۔ اللہ نے اس کی التجا سن لی۔ اور اللہ تم دونوں کی بات چیت کو سن رہا تھا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بے شک اللہ تعالیٰ تمام اوقات میں، مخلوق کی مختلف حاجتوں کے باوجود تمام آوازوں کو سننے والا ہے ﴿ بَصِیْرٌ جو اندھیری رات میں، سیاہ پتھر پر رینگتی ہوئی سیاہ چیونٹی کو بھی دیکھتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی کامل سمع و بصر کی خبر ہے، نیز تمام چھوٹے بڑے امور پر اس کے سمع و بصر کے احاطہ کی خبر ہے۔ اس ضمن میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس عورت کی شکایت اور مصیبت کا ازالہ کرے گا اس لیے اللہ تعالیٰ نے عمومی طور پر اس عورت اور دیگر عورتوں کے بارے میں حکم بیان فرمایا، چنانچہ فرمایا:
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

نزلت هذه الآيات الكريماتُ في رجل من الأنصار اشتكتْه زوجته إلى الله وجادلته إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - لمَّا حرَّمها على نفسه بعد الصُّحبة الطويلة والأولاد، وكان هو رجلاً شيخاً كبيراً، فشكتْ حالَها وحالَه إلى الله وإلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم -، وكرَّرت ذلك، وأبدتْ فيه وأعادتْ، فقال تعالى: {قد سَمِعَ الله قولَ التي تجادِلُك في زوجها وتَشْتَكي إلى الله واللهُ يسمعُ تحاوُرَكما}؛ أي: تخاطُبَكما فيما بينكما. {إنَّ الله سميعٌ}: لجميع الأصوات في جميع الأوقات على تفنُّن الحاجات. {بصيرٌ}: يبصر دبيبَ النملة السوداء، على الصَّخرة الصمَّاء، في الليلة الظلماء.

وهذا إخبارٌ عن كمال سمعه وبصره، وإحاطتهما بالأمور الدَّقيقة والجليلة، وفي ضمن ذلك الإشارة بأنَّ الله [تعالى] سيزيلُ شكواها ويرفع بلواها، ولهذا ذكر حكمها وحكمَ غيرها على وجه العموم، فقال: