تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المجادلة (58) — آیت 19

اِسۡتَحۡوَذَ عَلَیۡہِمُ الشَّیۡطٰنُ فَاَنۡسٰہُمۡ ذِکۡرَ اللّٰہِ ؕ اُولٰٓئِکَ حِزۡبُ الشَّیۡطٰنِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ الشَّیۡطٰنِ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿۱۹﴾
شیطان ان پر غالب آگیا، سو اس نے انھیں اللہ کی یاد بھلا دی، یہ لوگ شیطان کا گروہ ہیں۔ سن لو! یقینا شیطان کا گروہ ہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں۔ En
شیطان نے ان کو قابو میں کرلیا ہے۔ اور خدا کی یاد ان کو بھلا دی ہے۔ یہ (جماعت) شیطان کا لشکر ہے۔ اور سن رکھو کہ شیطان کا لشکر نقصان اٹھانے والا ہے
En
ان پر شیطان نے غلبہ حاصل کرلیا ہے، اور انہیں اللہ کا ذکر بھلا دیا ہے یہ شیطانی لشکر ہے۔ کوئی شک نہیں کہ شیطانی لشکر ہی خسارے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ ان پر شیطان کا غلبہ ہے جس نے ان پر قابو پا رکھا ہے، اس نے ان کے سامنے ان کے اعمال آراستہ کر دیے اور ان کو اللہ تعالیٰ کا ذکر فراموش کرا دیا۔ وہ ان کا کھلا دشمن ہے اور ان کے ساتھ صرف برائی چاہتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿ اِنَّمَا یَدْعُوْا حِزْبَهٗ لِیَكُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰؔبِ السَّعِیْرِ(فاطر: 35؍6)وہ تو اپنے گروہ کے لوگوں کو اپنی راہ پر اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والوں میں شامل ہو جائیں۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ حِزْبُ الشَّ٘یْطٰ٘نِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ الشَّ٘یْطٰ٘نِ هُمُ الْخٰؔسِرُوْنَ یہ شیطان کی پارٹی ہے۔ سن لو! شیطان ہی کی پارٹی نقصان اٹھانے والی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دین و دنیا، اپنے اہل و عیال اور گھر بار کے بارے میں خسارے میں پڑ گئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذا الذي جرى عليهم من استحواذِ الشيطان الذي استولى عليهم وزَيَّنَ لهم أعمالهم وأنساهم ذِكْرَ الله، وهو العدوُّ المبينُ الذي لا يريدُ بهم إلاَّ الشرَّ، إنَّما يدعو حِزْبَه ليكونوا من أصحاب السعير، {أولئك حزبُ الشيطان ألا إنَّ حزبَ الشيطانِ هم الخاسرون}: الذين خسروا دينَهم ودُنياهم وأنْفُسَهم وأهليهم.