تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المجادلة (58) — آیت 20

اِنَّ الَّذِیۡنَ یُحَآدُّوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗۤ اُولٰٓئِکَ فِی الۡاَذَلِّیۡنَ ﴿۲۰﴾
بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسو ل کی مخالفت کرتے ہیں وہی سب سے زیادہ ذلیل ہونے والوں میں سے ہیں ۔ En
جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ نہایت ذلیل ہوں گے
En
بیشک اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی جو لوگ مخالفت کرتے ہیں وہی لوگ سب سے زیاده ذلیلوں میں ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ وعد ہ اور وعید ہے۔ وعید اس شخص کے لیے جو کفر و معاصی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دشمنی کرتا ہے۔ نیز یہ کہ وہ بے یار و مددگار اور ذلیل و رسوا ہے، اس کا انجام قابل تعریف ہے نہ اس کی مدد کی جائے گی۔ وعدہ اس شخص کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتا ہے، جو کچھ انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں، ان کی اتباع کرتا ہے، پس وہ اللہ کے گروہ میں شامل ہو گیا جو فلاح یاب لوگوں پر مشتمل ہے، ان کے لیے فتح و نصرت اور دنیا و آخرت میں غلبہ ہے۔ یہ ایسا وعدہ ہے جس کی خلاف ورزی کی جائے گی نہ اس میں تغیر و تبدل کیا جائے گا۔ کیونکہ یہ ایسی ہستی کا وعدہ ہے جو سچی، نہایت طاقت ور اور غالب ہستی ہے، وہ ہستی جو چاہتی ہے وہ چیز اسے عاجز اور بے بس نہیں کر سکتی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا وعدٌ ووعيدٌ، وعيدٌ لمن حادَّ الله ورسوله بالكفر والمعاصي أنَّه مخذولٌ مذلولٌ لا عاقبةَ له حميدةٌ، ولا رايةَ له منصورةٌ، ووعدٌ لمن آمن به وبرسله واتَّبع ما جاء به المرسلون فصار من حزبِ الله المفلحين أنَّ لهم الفتحَ والنصرَ والغلبةَ في الدُّنيا والآخرة، وهذا وعدٌ لا يُخْلَفُ ولا يغيَّر؛ فإنَّه من الصادق القويِّ العزيز الذي لا يعجِزُه شيءٌ يريده.