کیا تم اس سے ڈر گئے کہ اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ صدقے پیش کرو، سو جب تم نے ایسا نہیں کیا اور اللہ نے تم پر مہربانی فرمائی تو نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔
En
کیا تم اس سےکہ پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہنے سے پہلے خیرات دیا کرو ڈر گئے؟ پھر جب تم نے (ایسا) نہ کیا اور خدا نے تمہیں معاف کردیا تو نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے رہو اور خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے رہو۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے
کیا تم اپنی سرگوشی سے پہلے صدقہ نکالنے سے ڈر گئے؟ پس جب تم نے یہ نہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی تمہیں معاف فرما دیا تو اب (بخوبی) نمازوں کو قائم رکھو زکوٰة دیتے رہا کرو اور اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی تابعداری کرتے رہو۔ تم جو کچھ کرتے ہو اس (سب) سے اللہ (خوب) خبردار ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر جب اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے خوف اور ہر سرگوشی کے وقت ان پر صدقات کی مشقت کو ملاحظہ فرمایا، تو ان پر معاملے کو آسان کر دیا اور سرگوشی کرنے سے قبل صدقہ ترک کرنے پر مواخذہ نہیں فرمایا، البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم اور آپ کا احترام باقی رہا اور اس کو منسوخ نہیں فرمایا، کیونکہ سرگوشی سے قبل صدقہ مشروع لغیرہ کے باب سے ہے، فی نفسہ مقصود نہیں۔ اصل مقصد تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب اور اکرام ہے۔
اور اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ ان بڑے بڑے احکام کی تعمیل کریں جو فی نفسہ مقصود ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاِذْلَمْتَفْعَلُوْا﴾”چنانچہ جب تم نے یہ نہ کیا۔“ یعنی صدقہ پیش کرنا تمھارے لیے آسان نہیں تھا اور نہ یہ کافی ہی تھا کیونکہ یہ حکم کی شرط نہیں ہے کہ وہ بندے پر آسان ہو، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے مقید فرمایا: ﴿ وَتَابَاللّٰهُعَلَیْكُمْ﴾ یعنی اس نے صدقہ کرنا تم پر معاف کر دیا ﴿ فَاَقِیْمُواالصَّلٰ٘وةَ ﴾ پس نماز کو اس کے تمام ارکان و شرائط اور اس کی تمام حدود و لوازم کے ساتھ قائم کرو۔ ﴿ وَاٰتُواالزَّكٰوةَ ﴾ اور مستحق لوگوں کو زکاۃ ادا کرو جو تمھارے مال میں سے تم پر فرض ہے۔ یہی دو عبادات، بدنی اور مالی عبادات کی بنیاد ہیں۔ جو کوئی ان عبادات کو شرعی طریقے سے قائم کرتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو قائم کرتا ہے، بنابریں فرمایا:﴿ وَاَطِیْعُوااللّٰهَوَرَسُوْلَهٗ﴾”اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔“ یہ تمام امور کو شامل ہے۔ پس اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کر کے، ان کے نواہی سے اجتناب کر کے، ان کی دی ہوئی خبر کی تصدیق کر کے اور شریعت کی حدود پر رک کر، ان کی اطاعت کرنا سب اس میں داخل ہے۔اس سے عبرت حاصل کرنا اخلاص اور احسان پر مبنی ہے، اسی لیے فرمایا: ﴿ وَاللّٰهُخَبِیْرٌۢبِمَاتَعْمَلُوْنَ ﴾ ان کے اعمال کسی طرح بھی صادر ہوں اللہ تعالیٰ ان کو خوب جانتا ہے، پس انھوں نے جو کچھ اپنے سینوں میں چھپا رکھا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو جانتے ہوئے اپنے علم کے مطابق ان کو جزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم لما رأى [تبارك و] تعالى شفقةَ المؤمنين ومشقَّةَ الصدقاتِ عليهم عند كلِّ مناجاةٍ؛ سهَّل الأمر عليهم، ولم يؤاخِذْهم بترك الصدقة بين يدي المناجاة، وبقي التعظيم للرسول والاحترام بحاله لم يُنْسَخْ؛ لأنَّ هذا [الحكمَ] من باب المشروع لغيره، ليس مقصوداً لنفسه، وإنَّما المقصود هو الأدب مع الرسول والإكرام له، وأمرهم تعالى أن يقوموا بالمأمورات الكبارِ المقصودةِ بنفسها، فقال: {فإذْ لم تَفْعَلوا}؛ أي: لم يهنْ عليكم تقديم الصدقةِ، ولا يكفي هذا؛ فإنَّه ليس من شرط الأمر أن يكون هيناً على العبد، ولهذا قيَّده بقوله: {وتاب الله عليكم}؛ أي: عفا لكم عن ذلك، {فأقيموا الصلاة}: بأركانها وشروطها وجميع حدودها ولوازمها، {وآتوا الزَّكاةَ}: المفروضة في أموالكم إلى مستحقِّيها.
وهاتان العبادتان هما أمُّ العبادات البدنيَّة والماليَّة؛ فمن قام بهما على الوجه الشرعيِّ؛ فقد قام بحقوق الله وحقوق عباده، ولهذا قال بعده: {وأطيعوا اللهَ ورسولَه}: وهذا أشملُ ما يكون من الأوامر، فيدخُلُ في ذلك طاعة الله وطاعة رسوله بامتثال أوامرِهما واجتنابِ نواهيهما وتصديق ما أخبرا به والوقوفِ عند حدودِ الشرع ، والعبرةُ في ذلك على الإخلاص والإحسان؛ فلهذا قال: {والله خبيرٌ بما تعملون}: فيعلم تعالى أعمالهم، وعلى أيِّ وجه صَدَرَتْ، فيجازيهم على حسب علمه بما في صدورهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔