تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَ تَابَ اللّٰهُ عَلَيْكُمْ:} اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حکم کے نزول کے بعد کسی نے نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی رازدارانہ بات کرنے کی جرأت کی اور نہ اس مقصد کے لیے صدقہ دینے کی نوبت آئی، بلکہ انھیں احساس ہوگیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رازدارانہ گفتگو کے بارے میں ان کی روش اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں آئی، اس لیے وہ اس پر نادم ہوئے اور اپنے رویے سے باز آگئے۔ {” وَ تَابَ اللّٰهُ عَلَيْكُمْ “} یعنی اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر مہربانی فرمائی اور آپ سے مناجات سے پہلے صدقے کا حکم منسوخ کر دیا۔
➌ {فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ …:} یعنی جب یہ وقتی حکم تم سے اٹھا لیا گیا تو ان احکام کی پابندی کرتے رہو جن پر عمل تمھارے لیے ہمیشہ لازم ہے۔ ان میں سب سے اہم نماز اور زکوٰۃ ہے، اس کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے ہر حکم کی اطاعت پر کار بند رہو اور یہ بات ہمیشہ پیشِ نظر رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمھارے ہر عمل سے پوری طرح باخبر ہے۔
➍ یہ حکم اگرچہ منسوخ ہو گیا مگر اس سے جو مقصود تھا وہ حاصل ہوگیا، مسلمان تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور آپ کے ادب کی وجہ سے علیحدگی میں لمبی گفتگو سے اجتناب کرنے لگے اور منافقین اس خوف سے کہ ہم نے ایسا کیا تو ہمارا نفاق کھل جائے گا اور ہم پہچان لیے جائیں گے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے خود بھی یہ واقعہ بہ تفصیل مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: اس آیت پر مجھ سے پہلے کسی نے عمل کیا نہ میرے بعد کوئی عمل کر سکا، میرے پاس ایک دینار تھا جسے بھنا کر میں نے دس درہم لے لیے ایک درہم اللہ کے نام پر کسی مسکین کو دے دیا پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے سرگوشی کی پھر تو یہ حکم اٹھ گیا تو مجھ سے پہلے بھی کسی نے اس پر عمل نہیں کیا اور نہ میرے بعد کوئی اس پر عمل کر سکتا ہے۔ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی۔[تفسیر ابن جریر الطبری:33790:مرسل]
ابن جریر میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا صدقہ کی مقدار ایک دینار مقرر کرنی چاہیئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو بہت ہوئی“، فرمایا: پھر آدھا دینار کہا: ”ہر شخص کو اس کی بھی طاقت نہیں“ آپ نے فرمایا: ”اچھا تم ہی بتاؤ کس قدر؟“ فرمایا ایک جو برابر سونا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واہ واہ تم تو بڑے ہی زاہد ہو“، سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پس میری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس امت پر تخفیف کر دی، [سنن ترمذي:3300،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ترمذی میں بھی یہ روایت ہے اور اسے حسن غریب کہا ہے۔
قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ صرف دن کی چند ساعتوں تک یہ حکم رہا سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ صرف میں ہی عمل کر سکا تھا اور دن کا تھوڑا ہی حصہ اس حکم کو نازل ہوئے تھا کہ منسوخ ہو گیا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم لما رأى [تبارك و] تعالى شفقةَ المؤمنين ومشقَّةَ الصدقاتِ عليهم عند كلِّ مناجاةٍ؛ سهَّل الأمر عليهم، ولم يؤاخِذْهم بترك الصدقة بين يدي المناجاة، وبقي التعظيم للرسول والاحترام بحاله لم يُنْسَخْ؛ لأنَّ هذا [الحكمَ] من باب المشروع لغيره، ليس مقصوداً لنفسه، وإنَّما المقصود هو الأدب مع الرسول والإكرام له، وأمرهم تعالى أن يقوموا بالمأمورات الكبارِ المقصودةِ بنفسها، فقال: {فإذْ لم تَفْعَلوا}؛ أي: لم يهنْ عليكم تقديم الصدقةِ، ولا يكفي هذا؛ فإنَّه ليس من شرط الأمر أن يكون هيناً على العبد، ولهذا قيَّده بقوله: {وتاب الله عليكم}؛ أي: عفا لكم عن ذلك، {فأقيموا الصلاة}: بأركانها وشروطها وجميع حدودها ولوازمها، {وآتوا الزَّكاةَ}: المفروضة في أموالكم إلى مستحقِّيها.
وهاتان العبادتان هما أمُّ العبادات البدنيَّة والماليَّة؛ فمن قام بهما على الوجه الشرعيِّ؛ فقد قام بحقوق الله وحقوق عباده، ولهذا قال بعده: {وأطيعوا اللهَ ورسولَه}: وهذا أشملُ ما يكون من الأوامر، فيدخُلُ في ذلك طاعة الله وطاعة رسوله بامتثال أوامرِهما واجتنابِ نواهيهما وتصديق ما أخبرا به والوقوفِ عند حدودِ الشرع ، والعبرةُ في ذلك على الإخلاص والإحسان؛ فلهذا قال: {والله خبيرٌ بما تعملون}: فيعلم تعالى أعمالهم، وعلى أيِّ وجه صَدَرَتْ، فيجازيهم على حسب علمه بما في صدورهم.