تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ:} حرف {” قَدْ “} تحقیق کے لیے آتا ہے اور اس کام کے واقع ہونے کے لیے بھی جس کی توقع کی جا رہی ہو۔ یہاں پہلے معنی کا تو محل نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سننے میں کسی کو شک نہیں کہ اس کا یقین دلانے کے لیے حرف تحقیق لایا جائے، تو مطلب یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جھگڑا کرنے والی عورت اپنی فریاد سنے جانے کی جو توقع کر رہی تھی اللہ تعالیٰ نے پوری فرما دی۔ سننے سے مراد یہاں صرف سن لینا ہی نہیں بلکہ سننا اور سن کر مراد پوری کرنا ہے، جیسے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دعا سن لی، یعنی سن کر قبول فرمائی۔
➌ { تُجَادِلُكَ فِيْ زَوْجِهَا:} وہ جھگڑا یہی تھا کہ وہ کہتی تھی میرے بارے میں کوئی گنجائش نکالیں، میرے خاوند نے مجھے طلاق نہیں دی، صرف {”أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّيْ“} کہا ہے۔ اب میں بڑھاپے میں کہاں جاؤں اور بچوں کا کیا کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی واضح حکم نہ ہونے کی وجہ سے انھیں اکٹھے رہنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔
➍ { وَ تَشْتَكِيْۤ اِلَى اللّٰهِ: ” شَكَا يَشْكُوْ شَكْوًي وَشِكَايَةً “} اپنے دکھ تکلیف کا اظہار کرنا۔ {” تَشْتَكِيْۤ “} (افتعال) میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے معنی میں مبالغہ ہے، یعنی وہ جھگڑنے والی اللہ تعالیٰ کی جناب میں بہت شکایت کر رہی تھی اور اپنے دکھ درد کا شدت سے اظہار کر رہی تھی۔
➎ {وَ اللّٰهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ: ” اِنَّ “} تعلیل کے لیے ہوتا ہے۔ اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا، کیونکہ اللہ تو سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ ”سمع“ (سننا) وہ صفت ہے جس کے ساتھ آوازوں کا علم ہوتا ہے اور ” بصر“ (دیکھنا) وہ صفت ہے جس کے ساتھ نظر آنے والی چیزوں کا علم ہوتا ہے۔ یونان کے مشرک فلاسفہ سے متاثر ہو کر بعض مسلم متکلمین نے ان کا یہ قاعدہ مان لیا کہ محل حوادث حادث ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کو سمیع و بصیر ماننا ممکن نہ رہا، کیونکہ اگر مانا جائے کہ اللہ تعالیٰ تمام آوازوں کو سنتا ہے اور تمام چیزوں کو دیکھتا ہے تو سنائی دینے والی اور نظر آنے والی چیزیں تو حادث ہیں، نئی سے نئی وجود میں آتی ہیں، اگر اللہ تعالیٰ سنتا اور دیکھتا ہو تو وہ محل حوادث ہوگا اور ان کے قاعدے کے مطابق خود بھی حادث ہو گا، ہمیشہ سے اور قدیم نہیں ہوگا، اس لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سننے، دیکھنے، کلام کرنے اور ایسی تمام صفات کا یا تو انکار کر دیا جن میں حدوث پایا جاتا ہے یا ان کی ایسی تاویل کردی جو درحقیقت انکار ہی ہے۔ اکثر مفسرین نے یہی روش اختیار کی ہے۔ تفسیر جلالین کو دیکھ لیجیے، وہ لکھتے ہیں: {” اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ “ عَالِمٌ “} حالانکہ سب جانتے ہیں کہ سننا، دیکھنا اور جاننا تینوں الگ الگ صفات ہیں، صرف عالم مان لینے سے سمیع و بصیر نہیں مانا جا سکتا اور یہ قاعدہ کہ ”محل حوادث حادث ہوتا ہے“ قرآن مجید کے صریح الفاظ سے ٹکراتا ہے، اس لیے غلط ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ رحمن کی آیت (۲۹): «كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ» کی تفسیر۔ اگر کوئی کہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو سمیع و بصیر مانیں تو وہ بندوں کی مثل ٹھہرتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب {”عليم“} ماننے سے وہ بندوں جیسا نہیں ٹھہرتا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ”علیم “ کا لفظ بندوں پر بھی بولا ہے: «اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِيْمٍ» [الحجر: ۵۳] (بے شک ہم تجھے ایک علیم لڑکے کی خوش خبری دیتے ہیں) تو سمیع و بصیر ماننے سے بندوں کی مثل کیسے بن جائے گا؟ مزید دیکھیے سورۂ شوریٰ کی آیت (۱۱): «لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ» کی تفسیر۔
➏ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا: [اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ وَسِعَ سَمْعُهُ الْأَصْوَاتَ، لَقَدْ جَاءَتِ الْمُجَادِلَةُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ أَنَا فِيْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، تَشْكُوْ زَوْجَهَا وَمَا أَسْمَعُ مَا تَقُوْلُ فَأَنْزَلَ اللّٰهُ: «قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِيْ تُجَادِلُكَ فِيْ زَوْجِهَا» ] [ابن ماجہ، المقدمۃ، باب فیما أنکرت الجھمیۃ: ۱۸۸] ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس کی سماعت تمام آوازوں پر وسیع ہے، وہ جھگڑنے والی عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی جب کہ میں گھر کے ایک طرف موجود تھی، وہ اپنے خاوند کی شکایت کر رہی تھی اور میں وہ نہیں سنتی تھی جو وہ کہہ رہی تھی، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: «قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِيْ تُجَادِلُكَ فِيْ زَوْجِهَا» ”یقینا اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو تجھ سے اپنے خاوند کے بارے میں جھگڑ رہی تھی۔“ اس حدیث سے ظاہر ہے کہ صحابہ کرام اللہ تعالیٰ کے سننے کا کیا مطلب سمجھتے تھے۔ اس لیے امام ابن ماجہ نے اپنی سنن کے شروع ہی میں یہ حدیث اس باب میں ذکر فرمائی ہے جس کا عنوان ہے: {” بَابٌ فِيْمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ“} ”یہ باب ان چیزوں کو ثابت کرنے کے لیے ہے جن کا جہمیہ نے انکار کیا ہے۔“ اور امام بخاری نے اپنی صحیح بخاری کی {” كِتَابُ التَّوْحِيْدِ“} کے {”بَابُ قَوْلِ اللّٰهِ تَعْالٰي: «وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا» “} کے تحت اسے اللہ تعالیٰ کی صفت سمع و بصر ثابت کرنے کے لیے ذکر فرمایا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور روایت میں آپ کا یہ فرمان اس طرح منقول ہے کہ بابرکت ہے وہ اللہ جو ہر اونچی نیچی آواز کو سنتا ہے، یہ شکایت کرنے والی بی بی صاحبہ سیدہ خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو اس طرح سرگوشیاں کر رہی تھیں کہ کوئی لفظ تو کان تک پہنچ جاتا تھا ورنہ اکثر باتیں باوجود اسی گھر میں موجود ہونے کے میرے کانوں تک نہیں پہنچتی تھیں۔ اپنے میاں کی شکایت کرتے ہوئے فرمایا کہ یا رسول اللہ! میری جوانی تو ان کے ساتھ کٹی، بچے ان سے ہوئے، اب جبکہ میں بڑھیا ہو گئی، بچے پیدا کرنے کے قابل نہ رہی، تو میرے میاں نے مجھ سے ظہار کر لیا، اے اللہ میں تیرے سامنے اپنے اس دکھڑے کا رونا روتی ہوں، ابھی یہ بی بی صاحبہ گھر سے باہر نہیں نکلی تھیں کہ جبرائیل علیہ السلام یہ آیت لے کر اترے، ان کے خاوند کا نام سیدنا اوس بن صامت رضی اللہ عنہ تھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:33727:صحیح] (ابن ابی حاتم)
یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنی خلافت کے زمانے میں اور لوگوں کے ساتھ جا رہے تھے کہ ایک عورت نے آواز دے کر ٹھہرا لیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فوراً ٹھہر گئے اور ان کے پاس جا کر توجہ اور ادب سے سر جھکائے ان کی باتیں سننے لگے، جب وہ اپنی فرمائش کی تعمیل کرا چکیں اور خود لوٹ گئیں تب امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ بھی واپس ہمارے پاس آئے، ایک شخص نے کہا: امیر المؤمنین ایک بڑھیا کے کہنے سے آپ رک گئے اور اتنے آدمیوں کو آپ کی وجہ سے اب تک رکنا پڑا، آپ نے فرمایا: افسوس! جانتے بھی ہو یہ کون تھیں؟ اس نے کہا: نہیں، فرمایا: یہ وہ عورت ہیں جن کی شکایت اللہ تعالیٰ نے ساتویں آسمان پر سنی یہ خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا ہیں اگر یہ آج صبح سے شام چھوڑ رات کر دیتیں اور مجھ سے کچھ فرماتی رہتیں تو بھی میں ان کی خدمت سے نہ ٹلتا، ہاں نماز کے وقت نماز ادا کر لیتا اور پھر کمربستہ خدمت کیلئے حاضر ہو جاتا (ابن ابی حاتم) اس کی سند منقطع ہے اور دوسرے طریق سے بھی مروی ہے، ایک روایت میں ہے کہ یہ سیدہ خولہ بن صامت رضی اللہ عنہا تھیں اور ان کی والدہ کا نام سیدہ معاذہ رضی اللہ عنہا تھا جن کے بارے میں آیت «وَلَا تُكْرِهُوْا فَتَيٰتِكُمْ عَلَي الْبِغَاۗءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا» ۱؎ [24-النور:33] نازل ہوئی تھی، لیکن ٹھیک بات یہ ہے کہ خولہ رضی اللہ عنہا اوس بن صامت رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
نزلت هذه الآيات الكريماتُ في رجل من الأنصار اشتكتْه زوجته إلى الله وجادلته إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - لمَّا حرَّمها على نفسه بعد الصُّحبة الطويلة والأولاد، وكان هو رجلاً شيخاً كبيراً، فشكتْ حالَها وحالَه إلى الله وإلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم -، وكرَّرت ذلك، وأبدتْ فيه وأعادتْ، فقال تعالى: {قد سَمِعَ الله قولَ التي تجادِلُك في زوجها وتَشْتَكي إلى الله واللهُ يسمعُ تحاوُرَكما}؛ أي: تخاطُبَكما فيما بينكما. {إنَّ الله سميعٌ}: لجميع الأصوات في جميع الأوقات على تفنُّن الحاجات. {بصيرٌ}: يبصر دبيبَ النملة السوداء، على الصَّخرة الصمَّاء، في الليلة الظلماء.
وهذا إخبارٌ عن كمال سمعه وبصره، وإحاطتهما بالأمور الدَّقيقة والجليلة، وفي ضمن ذلك الإشارة بأنَّ الله [تعالى] سيزيلُ شكواها ويرفع بلواها، ولهذا ذكر حكمها وحكمَ غيرها على وجه العموم، فقال: