اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو اور ان چیزوں میں سے خرچ کرو جن میں اس نے تمھیں (پہلوں کا) جا نشین بنایا ہے، پھر وہ لوگ جو تم میں سے ایمان لائے اور انھوں نے خرچ کیا ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔
En
تو) خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور جس (مال) میں اس نے تم کو (اپنا) نائب بنایا ہے اس میں سے خرچ کرو۔ جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور (مال) خرچ کرتے رہے ان کے لئے بڑا ثواب ہے
اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ اور اس مال میں سے خرچ کرو جس میں اللہ نے تمہیں (دوسروں کا) جانشین بنایا ہے پس تم میں سے جو ایمان ﻻئیں اور خیرات کریں انہیں بہت بڑا ﺛواب ملے گا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو، اللہ اور اس کے رسول اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں اس پر ایمان لانے اور اللہ کے راستے میں وہ مال خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے جو اس نے ان کے اختیار میں دیا ہے اور اس پر ان کو خلیفہ بنایا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ وہ کیسے عمل کرتے ہیں، پھر جب اس نے یہ حکم دیا تو اس نے ان کے سامنے اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنے کے ثواب کا ذکر کر کے ان کو مال خرچ کرنے کی ترغیب دی اور اس پر آمادہ کیا، چنانچہ فرمایا: ﴿ فَالَّذِیْنَاٰمَنُوْامِنْكُمْوَاَنْفَقُوْا﴾ یعنی جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان اور انفاق فی سبیل اللہ کو جمع کیا ﴿ لَهُمْاَجْرٌؔكَبِیْرٌ ﴾”ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔“ اس میں سے عظیم ترین اور جلیل ترین اجر، اپنے رب کی رضا، اللہ تعالیٰ کا اکرام و تکریم والا گھر اور اس کے اندر ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے مومنین اور مجاہدین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يأمر تعالى عبادَه بالإيمان به، وبرسوله وبما جاء به، وبالنفقة في سبيله من الأموال التي جعلها الله في أيديهم واستخْلَفَهم عليها؛ لينظر كيف يعملونَ. ثم لمَّا أمرهم بذلك؛ رغَّبهم وحثَّهم عليه بذكر ما رتَّب عليه من الثواب، فقال: {فالذين آمنوا منكم وأنفقوا لهم أجرٌ كبيرٌ}؛ أي: الذين جمعوا بين الإيمان بالله ورسوله والنفقة في سبيله لهم أجرٌ كبيرٌ، أعظمه وأجلُّه رِضا ربِّهم والفوزُ بدار كرامته وما فيها من النعيم المقيم الذي أعدَّه الله للمؤمنين والمجاهدين.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔