تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحديد (57) — آیت 6

یُوۡلِجُ الَّیۡلَ فِی النَّہَارِ وَ یُوۡلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیۡلِ ؕ وَ ہُوَ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۶﴾
وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور وہ سینوں کی بات کو خوب جاننے والا ہے۔ En
رات کو دن میں داخل کرتا اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ اور وہ دلوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے
En
وہی رات کو دن میں لے جاتا ہے اور وہی دن کو رات میں داخل کر دیتا ہے اور سینوں کے بھیدوں کا وه پورا عالم ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَیُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ رات دن پر چھا جاتی ہے اور اپنی تاریکی کے ساتھ اس کو ڈھانپ لیتی ہے اور انسان آرام کرتے ہیں، پھر دن رات پر چھا جاتا ہے، تب زمین پر چھائی ہوئی تمام تاریکی زائل ہو جاتی ہے، تمام کون و مکان روشن ہو جاتے ہیں۔ تب بندے بھی متحرک ہو جاتے ہیں اور اپنے مصالح اور معاش کے انتظامات میں لگ جاتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا رہتا ہے، ان دونوں کے درمیان، اضافے اور کمی، طول اور قصر کو ادل بدل کرتا رہتا ہے، حتیٰ کہ اس سے موسم جنم لیتے ہیں اور زمانوں کا حساب درست رہتا ہے اور بہت سے مصالح حاصل ہوتے ہیں۔ بہت بابرکت ہے اللہ جو تمام کائنات کا رب ہے جو بہت بلند، فضل و کرم کا مالک اور جواد ہے جس نے اپنے بندوں کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز فرمایا: ﴿ وَهُوَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ یعنی جو کچھ تمام کائنات (والوں) کے سینوں میں ہے، اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ ہدایت کا اہل ہے، اسے ہدایت سے نواز دیتا ہے اور جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ ہدایت کا اہل نہیں، اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{يولِجُ الليل في النَّهار ويولِجُ النهارَ في الليل}؛ أي: يدخِلُ الليل على النهار، فيغشيهم الليل بظلامه، فيسكنون ويهدؤون، ثم يُدْخِلُ النهار على الليل، فيزول ما على الأرض من الظلام، ويضيء الكون، فيتحرَّك العباد، ويقومون إلى مصالحهم ومعايشهم، ولا يزال اللهُ يكوِّر الليلَ على النهار والنهارَ على الليل، ويداول بينهما في الزيادة والنقص والطول والقصر، حتى تقومَ بذلك الفصول وتستقيمَ الأزمنة ويحصلَ من المصالح بذلك ما يحصل ، فتبارك الله ربُّ العالمين، وتعالى الكريم الجواد الذي أنعم على عباده بالنعم الظاهرة والباطنة، {وهو عليمٌ بذات الصُّدور}؛ أي: بما يكون في صدور العالمين، فيوفِّق مَنْ يعلم أنَّه أهلٌ لذلك، ويخذُلُ من يعلم أنَّه لا يَصْلُحُ لهدايتِهِ.