تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحديد (57) — آیت 8

وَ مَا لَکُمۡ لَا تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ ۚ وَ الرَّسُوۡلُ یَدۡعُوۡکُمۡ لِتُؤۡمِنُوۡا بِرَبِّکُمۡ وَ قَدۡ اَخَذَ مِیۡثَاقَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۸﴾
اور تمھیں کیا ہے تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے، جب کہ رسول تمھیں دعوت دے رہا ہے کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ اور یقینا وہ تم سے پختہ عہد لے چکا ہے، اگر تم ایمان والے ہو۔ En
اور تم کیسے لوگ ہو کہ خدا پر ایمان نہیں لاتے۔ حالانکہ (اس کے) پیغمبر تمہیں بلا رہے ہیں کہ اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ اور اگر تم کو باور ہو تو وہ تم سے (اس کا) عہد بھی لے چکا ہے
En
تم اللہ پر ایمان کیوں نہیں ﻻتے؟ حاﻻنکہ خود رسول تمہیں اپنے رب پر ایمان ﻻنےکی دعوت دے رہا ہے اور اگر تم مومن ہو تو وه تو تم سے مضبوط عہد وپیمان بھی لے چکا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا جو انھیں ایمان کی دعوت دیتا ہے اور عدم مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَالرَّسُوْلُ یَدْعُوْؔكُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ وَقَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ یعنی وہ کون سی چیز ہے جو تمھیں ایمان لانے سے روکتی ہے حالانکہ رسول مصطفیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو سب سے افضل رسول اور سب سے اچھے داعی ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ اس دعوت کو قبول کرنے اور حق کی آواز پر لبیک کہنے کے لیے جلدی سے آگے بڑھنا چاہیے جسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر تشریف لائے ہیں، اللہ تعالیٰ تم سے ایمان لانے کا عہد اور میثاق لے چکا ہے، اگر تم مومن ہو تو تمھیں یہ کام کرنا چاہیے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذكر السَّبب الداعي لهم إلى الإيمان وعدم المانع منه، فقال: {وما لكم لا تؤمنونَ بالله والرسولُ يَدْعوكم لِتُؤْمِنوا بربِّكُم وقد أخذ ميثاقَكُم إن كنتُم مؤمنينَ}؛ أي: وما الذي يمنعكم من الإيمانِ والحالُ أنَّ الرسول محمداً - صلى الله عليه وسلم - أفضلُ الرسل وأكرمُ داعٍ دعا إلى الله يدعوكم؟! فهذا مما يوجِبُ المبادرة إلى إجابة دعوتِهِ والتلبيةِ والإجابةِ للحقِّ الذي جاء به، وقد أخذ عليكم العهدَ والميثاق بالإيمان إن كنتُم مؤمنين.