تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحديد (57) — آیت 5

لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ اِلَی اللّٰہِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ ﴿۵﴾
اسی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔ En
آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے۔ اور سب امور اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں
En
آسمانوں کی اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے۔ اور تمام کام اسی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ملکیت، تخلیق اور عبدیت کے اعتبار سے آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اسی کی ہے، وہ اپنے اوامر کونی و قدری اور اوامر شرعی جو حکمت ربانی کے مطابق جاری و ساری ہیں، کے ذریعے سے ان میں جو چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ ﴿ وَاِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ تمام اعمال اور عمل کرنے والے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ بندے اس کے سامنے پیش کیے جائیں گے، پس وہ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کر دے گا، وہ نیکو کار کو اس کی نیکی کا اور بدکار کو اس کی بدی کا بدلہ دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{له ما في السمواتِ والأرضِ}: ملكاً وخلقاً وعبيداً يتصرَّف فيهم بما شاءه من أوامره القدريَّة والشرعيَّة الجارية على الحكمة الربَّانيَّة، {وإلى الله تُرْجَعُ الأمور}: من الأعمال والعمال، فيعرض عليه العبادُ، فيميز الخبيثُ من الطيِّب، ويجازي المحسن بإحسانه والمسيء بإساءته.