تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحديد (57) — آیت 4

ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰی عَلَی الۡعَرۡشِ ؕ یَعۡلَمُ مَا یَلِجُ فِی الۡاَرۡضِ وَ مَا یَخۡرُجُ مِنۡہَا وَ مَا یَنۡزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعۡرُجُ فِیۡہَا ؕ وَ ہُوَ مَعَکُمۡ اَیۡنَ مَا کُنۡتُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۴﴾
وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر بلند ہوا، وہ جانتا ہے جو چیز زمین میں داخل ہوتی ہے اور جو اس سے نکلتی ہے اور جو آسمان سے اترتی ہے اور جو اس میں چڑھتی ہے اور وہ تمھارے ساتھ ہے، جہاں بھی تم ہو اور اللہ اسے جو تم کرتے ہو، خوب دیکھنے والا ہے۔ En
وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا۔ جو چیز زمین میں داخل ہوتی اور جو اس سے نکلتی ہے اور جو آسمان سے اُترتی اور جو اس کی طرف چڑھتی ہے سب اس کو معلوم ہے۔ اور تم جہاں کہیں ہو وہ تمہارے ساتھ ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے
En
وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہو گیا۔ وه (خوب) جانتا ہےاس چیز کو جو زمین میں جائے اور جو اس سے نکلے اور جو آسمان سے نیچے آئے اور جو کچھ چڑھ کر اس میں جائے، اور جہاں کہیں تم ہو وه تمہارے ساتھ ہے اور جو تم کر رہے ہو اللہ دیکھ رہا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّ٘امٍ وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا۔ پہلا دن اتوار تھا اور آخری دن جمعہ تھا۔ ﴿ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْ٘عَرْشِ پھر عرش پر مستوی ہوا۔ تمام مخلوقات کے اوپر، وہ استوا جو اس کے جلال کے لائق ہے ﴿ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ اناج کا دانہ، کوئی حیوان اور بارش وغیرہ جو کچھ بھی زمین میں داخل ہوتاہے، وہ اسے جانتا ہے۔ ﴿ وَمَا یَخْرُجُ مِنْهَا نباتات، درخت اور حیوانات وغیرہ جو اس سے نکلتے ہیں، وہ انھیں جانتا ہے ﴿ وَمَا یَنْ٘زِلُ مِنَ السَّمَآءِ آسمان سے جو فرشتے، تقدیریں اور رزق نازل ہوتے ہیں ﴿ وَمَا یَعْرُجُ فِیْهَا فرشتے، ارواح، دعائیں اور اعمال وغیرہ آسمان کی طرف چڑھتے ہیں، سب اللہ تعالیٰ کے احاطۂ علم میں ہے ﴿ وَهُوَ مَعَكُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ اور وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿مَا یَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰ٘ثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَاۤ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَلَاۤ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَیْنَ مَا كَانُوْا (المجادلہ:58؍7)تین آدمی کوئی سرگوشی کرتے ہیں تو چوتھا وہ ہوتا ہے، پانچ آدمی سرگوشی کرتے ہیں تو چھٹا وہ ہوتا ہے، نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ، مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے، جہاں کہیں بھی وہ ہوں۔ اور یہ معیت، علم اور اطلاع کی معیت ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اعمال کی جزا و سزا کا وعدہ کیا ہے، فرمایا: ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ یعنی اللہ تعالیٰ ان تمام اعمال کو دیکھتا ہے جو تم سے صادر ہوتے ہیں اور یہ اچھے برے اعمال جو اس کی طرف لوٹتے ہیں، وہ تمھیں ان کی جزا دے گا اور ان کو تمھارے لیے محفوظ رکھے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{هو الذي خلق السمواتِ والأرضَ في ستَّة أيام}: أولُها يومُ الأحد، وآخرُها يومُ الجمعة، {ثم استوى على العرش}: استواءً يَليقُ بجلاله فوق جميع خلقه، {يعلم ما يَلِجُ في الأرض}: من حبٍّ وحيوانٍ ومطرٍ وغير ذلك، {وما يخرج منها}: من نبتٍ وشجرٍ وحيوان وغير ذلك، {وما ينزِلُ من السماء}: من الملائكة والأقدار والأرزاق، {وما يَعْرُجُ فيها}: من الملائكة والأرواح والأدعية والأعمال وغير ذلك، {وهو معكم أينما كُنتم}؛ كقوله: {ما يكون من نجوى ثلاثةٍ إلاَّ هو رابِعُهم ولا خمسةٍ إلاَّ هو سادسُهم ولا أدنى من ذلك ولا أكثر إلاَّ هو معهم أينما كانوا}: وهذه المعيَّة معيَّةُ العلم والاطِّلاع، ولهذا توعَّد ووعد بالمجازاة بالأعمال بقوله: {والله بما تعلمون بصيرٌ}؛ أي: هو تعالى بصيرٌ بما يصدر منكم من الأعمال وما صدرت عنه تلك الأعمال من برٍّ وفجورٍ؛ فمجازيكمعليها وحافظها عليكم.