تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ هُوَالْاَوَّلُ﴾ جس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی ﴿ وَالْاٰخِرُ﴾ جس کے بعد کوئی چیز نہ ہو گی۔ ﴿ وَالظَّاهِرُ﴾ جس کے اوپر کوئی چیز نہیں ﴿ وَالْبَاطِنُ﴾ جس سے پرے کوئی چیز نہیں ﴿ وَهُوَبِكُ٘لِّشَیْءٍعَلِیْمٌ﴾ اس کے علم نے تمام ظواہرو بواطن، تمام بھیدوں، مخفی چیزوں اور تمام متقدم اور متأخر امور کا احاطہ کر رکھا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{هو الأولُ}: الذي ليس قبلَه شيءٌ. {والآخر}: الذي ليس بعدَه شيءٌ. {والظاهر}: الذي ليس فوقَه شيءٌ. {والباطن}: الذي ليس دونَه شيءٌ. {وهو بكلِّ شيءٍ عليمٌ}: قد أحاط علمُه بالظواهر والبواطن والسرائر والخفايا والأمور المتقدِّمة والمتأخِّرة.