تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحديد (57) — آیت 3

ہُوَ الۡاَوَّلُ وَ الۡاٰخِرُ وَ الظَّاہِرُ وَ الۡبَاطِنُ ۚ وَ ہُوَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۳﴾
وہی سب سے پہلے ہے اور سب سے پیچھے ہے اور ظاہر ہے اور چھپا ہو ا ہے اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ En
وہ (سب سے) پہلا اور (سب سے) پچھلا اور (اپنی قدرتوں سے سب پر) ظاہر اور (اپنی ذات سے) پوشیدہ ہے اور وہ تمام چیزوں کو جانتا ہے
En
وہی پہلے ہے اور وہی پیچھے، وہی ﻇاہر ہے اور وہی مخفی، اور وه ہر چیز کو بخوبی جاننے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ هُوَ الْاَوَّلُ جس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی ﴿ وَالْاٰخِرُ جس کے بعد کوئی چیز نہ ہو گی۔ ﴿ وَالظَّاهِرُ جس کے اوپر کوئی چیز نہیں ﴿ وَالْبَاطِنُ جس سے پرے کوئی چیز نہیں ﴿ وَهُوَ بِكُ٘لِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ اس کے علم نے تمام ظواہرو بواطن، تمام بھیدوں، مخفی چیزوں اور تمام متقدم اور متأخر امور کا احاطہ کر رکھا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{هو الأولُ}: الذي ليس قبلَه شيءٌ. {والآخر}: الذي ليس بعدَه شيءٌ. {والظاهر}: الذي ليس فوقَه شيءٌ. {والباطن}: الذي ليس دونَه شيءٌ. {وهو بكلِّ شيءٍ عليمٌ}: قد أحاط علمُه بالظواهر والبواطن والسرائر والخفايا والأمور المتقدِّمة والمتأخِّرة.