تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحديد (57) — آیت 2

لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ۚ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۲﴾
اسی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے، وہ زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ En
آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے۔ (وہی) زندہ کرتا اور مارتا ہے۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
En
آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے، وہی زندگی دیتا ہے اور موت بھی اور وه ہر چیز پر قادر ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے لا محدود اقتدار کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا:﴿ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ١ۚ یُحْیٖ وَیُـمِیْتُ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے، وہی زندگی دیتا ہے اور موت بھی۔ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ تمام مخلوقات کا خالق، رازق اور اپنی قدرت کے ساتھ ان کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿ وَهُوَ عَلٰى كُ٘لِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھنے والا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم أخبر عن عموم ملكه، فقال: {له ملكُ السمواتِ والأرضِ يحيي ويميتُ}؛ أي: هو الخالق لذلك، الرازق المدبِّر لها بقدرته، {وهو على كلِّ شيءٍ قديرٌ}.