تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحديد (57) — آیت 21

سَابِقُوۡۤا اِلٰی مَغۡفِرَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ جَنَّۃٍ عَرۡضُہَا کَعَرۡضِ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ ۙ اُعِدَّتۡ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ ؕ ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ ﴿۲۱﴾
اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھو جس کی چوڑائی آسمان اور زمین کی چوڑائی کی طرح ہے، وہ ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ یہ اللہ کا فضل ہے، وہ اسے اس کو دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔ En
(بندو) اپنے پروردگار کی بخشش کی طرف اور جنت کی (طرف) جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کا سا ہے۔ اور جو ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو خدا پر اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے ہیں لپکو۔ یہ خدا کا فضل ہے جسے چاہے عطا فرمائے۔ اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے
En
(آؤ) دوڑو اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان وزمین کی وسعت کے برابر ہے یہ ان کے لیے بنائی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے اور اللہ بڑے فضل واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو مغفرت، رضا اور جنت کی طرف مسابقت کا حکم دیا ہے اور یہ چیز مغفرت کے اسباب کے لیے کوشش کرنے، یعنی خالص توبہ اور نفع مند استغفار کرنے، گناہ اور گناہ کے اسباب سے دور رہنے ہی سے ممکن ہے، نیز عمل صالح کے ذریعے سے اللہ کی رضا کی طرف سبقت، ان امور پر دوام کی حرص کرنے سے ممکن ہے جن پر اللہ تعالیٰ راضی ہے، یعنی خالق کی عبادت میں احسان اور مخلوق کو ہر لحاظ سے فائدہ پہنچا کر ان کے ساتھ حسن سلوک کے ذریعے سے ہی یہ چیز حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان اعمال کا ذکر فرمایا جو اس کے موجب ہیں، چنانچہ فرمایا: ﴿ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ١ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ٘ اور جنت جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کا سا ہے۔ جو ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان میں دین کے تمام اصول و فروع داخل ہیں۔
﴿ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ یعنی ہم نے تمھارے سامنے جو کچھ بیان کیا ہے اور جنت تک پہنچانے والے طریقوں اور جہنم میں گرانے والے جن راستوں کی نشاندہی کی ہے، وہ سب اللہ کا فضل ہے، نیز اللہ تعالیٰ کا اجر عظیم اور ثواب جمیل، اس کا اپنے بندوں پر سب سے بڑا احسان اور فضل و کرم ہے ﴿ وَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔جس کی ثنا کو کوئی شمار نہیں کر سکتا بلکہ وہ اسی طرح ہے جس طرح اس نے خود اپنی ثنا بیان کی، اس کے بندوں میں سے جو کوئی اس کی ثنا بیان کرتا ہے وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم أمر بالمسابقة إلى مغفرة الله ورضوانه وجنته، وذلك يكون بالسعي بأسباب المغفرةِ من التوبة النَّصوح، والاستغفار النَّافع، والبعد عن الذُّنوب ومظانِّها، والمسابقة إلى رضوان الله بالعمل الصالح، والحرص على ما يُرضي الله على الدَّوام من الإحسان في عبادة الخالق، والإحسان إلى الخلق بجميع وجوه النفع، ولهذا ذكر الله الأعمالَ الموجبةَ لذلك، فقال: {وجنَّةٍ عرضُها السمواتُ والأرضُ أعِدَّتْ للذين آمنوا باللهِ ورسلِهِ}، والإيمانُ بالله ورُسُلِهِ يدخلُ فيه أصولُ الدِّين وفروعها. {ذلك فضلُ الله يؤتيهِ مَن يشاءُ}؛ أي: هذا الذي بيَّنَّاه لكم وذَكَرْنا [لكم فيه] الطُّرُقَ الموصلة إلى الجنة والطُّرُقَ الموصلة إلى النار، وأنَّ ثواب الله بالأجر الجزيل والثواب الجميل من أعظم منَّته على عباده وفضله، {والله ذو الفضل العظيم}: الذي لا يُحصى ثناءٌ عليه، بل هو كما أثنى على نفسه، وفوق ما يُثني عليه أحدٌ من خلقه.