تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحديد (57) — آیت 22

مَاۤ اَصَابَ مِنۡ مُّصِیۡبَۃٍ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمۡ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ نَّبۡرَاَہَا ؕ اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرٌ ﴿ۚۖ۲۲﴾
کوئی مصیبت نہ زمین پر پہنچتی ہے اور نہ تمھاری جانوں پر مگر وہ ایک کتاب میں ہے، اس سے پہلے کہ ہم اسے پیدا کریں۔ یقینا یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔ En
کوئی مصیبت ملک پر اور خود تم پر نہیں پڑتی مگر پیشتر اس کے کہ ہم اس کو پیدا کریں ایک کتاب میں (لکھی ہوئی) ہے۔ (اور) یہ (کام) خدا کو آسان ہے
En
نہ کوئی مصیبت دنیا میں آتی ہے نہ (خاص) تمہاری جانوں میں، مگر اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں وه ایک خاص کتاب میں لکھی ہوئی ہے، یہ (کام) اللہ تعالیٰ پر (بالکل) آسان ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قضا و قدر کی عمومیت کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ یہ آیت کریمہ خیر و شر پر مبنی ان تمام مصائب کو شامل ہے جو مخلوق پر نازل ہوتی ہیں، ہر چھوٹی بڑی تقدیر لوح محفوظ میں درج ہے۔ یہ ایک بہت بڑا معاملہ ہے، عقل جس کا احاطہ نہیں کر سکتی اور اس مقام پر بڑے بڑے خرد مند ہکا بکا رہ جاتے ہیں۔ مگر یہ اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى مخبراً عن عموم قضائِهِ وقدرِهِ: {ما أصابَ من مصيبةٍ في الأرض ولا في أنفسِكُم}: وهذا شاملٌ لعموم المصائب التي تُصيبُ الخلق من خيرٍ وشرٍّ؛ فكلُّها قد كُتِبَتْ في اللوح المحفوظ صغيرها وكبيرها، وهذا أمرٌ عظيمٌ لا تحيطُ به العقول، بل تَذْهلُ عنده أفئدةُ أولي الألباب، ولكنَّه على الله يسيرٌ.