تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الرحمٰن (55) — آیت 14

خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ صَلۡصَالٍ کَالۡفَخَّارِ ﴿ۙ۱۴﴾
اس نے انسان کو بجنے والی مٹی سے پیدا کیا، جو ٹھیکری کی طرح تھی۔ En
اسی نے انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی مٹی سے بنایا
En
اس نےانسان کو بجنے والی مٹی سے پیدا کیا جو ٹھیکری کی طرح تھی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر نعمت ہے کہ اس نے انھیں اپنی قدرت اور کاریگری کے آثار دکھائے کہ ﴿خَلَقَ الْاِنْسَانَ انسان کے جد امجد حضرت آدم علیہ السلام کو گیلی مٹی سے پیدا کیا ﴿مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّؔارِ جس کے نم کو مہارت کے ساتھ محکم کیا گیا تھا یہاں تک کہ وہ خشک ہو گئی اور اس میں آگ پر پکائے گئے ٹھیکرے کی آواز کے مانند کھنکھنانے کی آواز پیدا ہوئی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذا من نعمه تعالى على عباده؛ حيث أراهم من آثارِ قدرتِهِ وبديع صنعته أنْ {خَلَقَ} أبا {الإنسان}، وهو آدم عليه السلام، {من صلصالٍ كالفخَّارِ}؛ أي: من طينٍ مبلول، قد أحكم بلَّه وأتقن، حتى جفَّ فصار له صلصلةٌ وصوتٌ يشبه صوت الفخَّار، وهو الطين المشويُّ.