تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الرحمٰن (55) — آیت 13

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۱۳﴾
تو (اے جن و انس! ) تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟ En
تو (اے گروہ جن وانس) تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
En
پس (اے انسانو اور جنو!) تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سے نعمتوں کا ذکر فرمایا جن کا آنکھوں اور بصیرت کے ذریعے سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور خطاب دونوں گروہوں یعنی جنات اور انسانوں کے لیے ہے، اس لیے اپنی نعمتوں کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰ٘نِ یعنی (اے جن و انس!) تم اللہ تعالیٰ کی کون کون سی دینی اور دنیاوی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت کریمہ جنات کے سامنے تلاوت فرمائی تو ان کا کیا ہی خوبصورت جواب تھا۔ جب بھی آپ ﴿ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰ٘نِ پڑھتے تو وہ جواب میں کہتے:لَا بِشَیْءٍ مِّنْ نِّعَمِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ فَلَکَ الْحَمْدُ اے ہمارے رب!ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے، پس تو ہی ہر قسم کی حمد و ثنا کا مستحق ہے۔ (جامع الترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ الرحمٰن، حدیث: 3291) اسی طرح بندۂ مومن کو چاہیے کہ جب اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسانات کی آیات تلاوت کی جائیں تو وہ ان کا اقرار کرے ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور اس کی حمد و ثنا بیان کرے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولما ذَكَرَ جملةً كثيرةً من نعمه التي تشاهد بالأبصار والبصائر، وكان الخطابُ للثَّقلين الجن والإنس؛ قررهم تعالى بنعمه، فقال: {فبأيِّ آلاءِ ربِّكما تكذِّبانِ}؛ أي: فبأيِّ نعم الله الدينيَّة والدنيويَّة تكذِّبان؟ وما أحسن جواب الجن حين تلا عليهم النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - هذه السورة؛ فكلَّما مرَّ بقوله: {فبأيِّ آلاءِ ربِّكما تكذِّبان}؛ قالوا: ولا بشيءٍ من آلائك ربنا نكذِّبُ؛ فلك الحمد. فهكذا ينبغي للعبد إذا تليت عليه نعم الله وآلاؤه أن يُقِرَّ بها ويشكر ويحمد الله عليها.