ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الرحمٰن (55) — آیت 14

خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ صَلۡصَالٍ کَالۡفَخَّارِ ﴿ۙ۱۴﴾
اس نے انسان کو بجنے والی مٹی سے پیدا کیا، جو ٹھیکری کی طرح تھی۔ En
اسی نے انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی مٹی سے بنایا
En
اس نےانسان کو بجنے والی مٹی سے پیدا کیا جو ٹھیکری کی طرح تھی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 14) {خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ: صَلْصَلَةٌ} وہ آواز جو کسی چیز کو بجانے یا کھڑکانے سے پیدا ہوتی ہے، جیسا کہ صحیح بخاری کی حدیث (۲) میں {صَلْصَلَةُ الْجَرْسِ} کا ذکر ہے۔ { صَلْصَالٍ } بجنے والی، کھنکھنانے والی (مٹی)۔ بعض کہتے ہیں یہ { صِلُّ اللَّحْمِ} سے مشتق ہے، جس کا معنی گوشت کا بدبودار ہونا ہے۔ مراد بدبودار مٹی ہے۔ آیت کی مزید تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ حجر (۲۶)۔