تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَالْحَبُّذُوالْعَصْفِ﴾”اور بھوسے والے دانے (اناج)۔“ یعنی نال دار اناج جسے گاہا جاتا ہے، پھر مویشیوں وغیرہ کے لیے اس کے بھوسے سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ اس میں گیہوں، جو، مکئی، چاول اور چنا وغیرہ داخل ہیں ﴿وَالرَّیْحَانُ﴾”اور خوشبودار پھول ہیں۔“ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے رزق کی تمام اقسام مراد ہوں جس کو آدمی کھاتے ہیں۔ تب یہ خاص پر عطف عام کے باب میں شمار ہو گا اور اس کے معنیٰ یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عمومی اور خصوصی خوراک اور رزق سے نوازا ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد معروف ریحان ہو۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی خوش کن اور فاخرہ خوشبوؤ ں کو زمین میں سے مہیا کر کے، ان سے اپنے بندوں کو نوازا ہے جو روح کو مسرت عطا کرتی ہیں اور ان سے نفوس میں انشراح پیدا ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{والحبُّ ذو العصفِ}؛ أي: ذو الساق الذي يُداس فينتفع بتبنه للأنعام وغيرها، ويدخل في ذلك حبُّ البُرِّ والشعير والذُّرة والأرز والدخن وغير ذلك، {والريحانُ}: يُحتمل أنَّ المراد به جميع الأرزاق التي يأكلها الآدميُّون، فيكون هذا من باب عطف العامِّ على الخاصِّ، ويكون الله [تعالى] قد امتنَّ على عباده بالقوت والرزق عموماً وخصوصاً. ويُحتمل أنَّ المراد بالريحان الريحان المعروف، وأنَّ الله امتنَّ على عباده بما يسَّره في الأرض من أنواع الروائح الطيبة والمشامِّ الفاخرة التي تسرُّ الأرواح وتنشرح لها النفوس.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔